وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت 3 گھنٹے طویل خصوصی اجلاس،

لاہور کے مسائل کے حل کیلئے لائن آف ایکشن پر پیش رفت کا جا ئزہ لاہورپاکستان کا دل ہے،لاہور کے مسائل کو سب کی مشاورت سے حل کرنے کی حکمت عملی بنائی ہے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور تحریک انصاف کے عہدیداران کااس ضمن میں کلیدی کردار ہوگااورانہیں اونر شپ دیں گے خالی باتوں اورپریزنٹیشن سے کام نہیں چلے گا،عملی طورپر کام کر کے دکھاناہوگا،جو کام نہیں کرے گا اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا،:عثمان بزدار عوامی مسائل کے حل کی مستقل مانیٹرنگ کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت،جو ٹاسک دیئے ہیں وہ ہر صورت پورے ہونے چاہئیں منشیات کے عادی افراد کے خلاف کریک ڈاؤن میں مزید سختی کی جائے،سٹریٹ لائٹوں کی بحالی کا کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے

بدھ ستمبر 20:53

وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت 3 گھنٹے طویل خصوصی اجلاس،
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 ستمبر2020ء) وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارکی زیر صدارت وزیر اعلی آفس میں لاہور کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے خصوصی اجلاس منعقد ہوا - تین گھنٹے طویل اجلاس میں لاہور کے مسائل کے حل کیلئے لائن آف ایکشن پر پیش رفت کا جا ئزہ لیاگیا، ہر محکمے نے ایک ماہ کے دوران مسائل کے حل کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ لاہورپاکستان کا دل ہے۔

لاہور کے مسائل کو سب کی مشاورت سے حل کرنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور تحریک انصاف کے عہدیداران کااس ضمن میں کلیدی کردار ہوگا۔تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں اورعہدیداران کو اونر شپ دیں گے۔لاہورشہرمیں بسنے والوں کے مسائل کے حل کیلئے جو کچھ انسانی بس میں ہوا کرگزریں گے۔

(جاری ہے)

خالی باتوں اورپریزنٹیشن سے کام نہیں چلے گا،عملی طورپر کام کر کے دکھاناہوگا۔

جو کام نہیں کرے گا اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔میں ہر ماہ دیئے گئے ہدف پر ہونے والی پیش رفت کا خود جائزہ لوں گا۔لاہور شہرکیلئے میگاپراجیکٹس بھی شروع کیے جائیں گے۔ وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ روزمرہ کے ایشوز کو انتظامیہ اورپولیس ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے شہر میں صفائی کی خراب صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایل ڈبلیو ایم سی کو اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی اورصفائی کے نظام کومستقل بنیادوں پر درست کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق بھی بہت شکایت ہیں۔کارپوریشن کے حکام اپنی کارکردگی بہتر بنائیں۔منتخب نمائندے بھی فیلڈ میں نکلیں،عوامی مسائل کا خود جائزہ لیںاور وزیراعلیٰ آفس کو عوامی مسائل سے آگاہ کریں۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے عوامی مسائل کے حل کی مستقل مانیٹرنگ کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی - وزیر اعلی نے کہا کہ جو ٹاسک دیئے ہیں وہ ہر صورت پورے ہونے چاہئیں۔

کوئی بہانہ بازی نہیں چلے گی۔پارکنگ ایشوزکے حل،ٹریفک مینجمنٹ کی بہتری اورجرائم کے خاتمے کے حوالے سے ٹھوس اقدامات چاہتا ہوں۔شہر میں گداگروں کے خلاف بھر پور مہم چلائی جائے۔سڑکوں پر گداگرنظر نہیں آنے چاہئیںاورگدا گروں کو Beggar homeمیں رکھا جائے۔ منشیات کے عادی افراد کے خلاف کریک ڈاؤن میں مزید سختی کی جائے۔سٹریٹ لائٹوں کی بحالی کا کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔

تجاوزات کے رحجان کے خاتمے کے لئے موثر منصوبہ بندی کر کے عملی اقدامات اٹھائے جائیں - صوبائی وزراء،اراکین قومی وصوبائی اسمبلی اورپی ٹی آئی کے رہنماؤں نے لاہور کے مسائل کے حل کیلئے تجاویز دیں- صوبائی وزراء عبدالعلیم خان،میاں محمود الرشید،ڈاکٹریاسمین راشد،میاں اسلم اقبال،مراد راس،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ملک کرامت کھوکھر،ندیم بارا،ملک سرفراز،تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری،انسپکٹرجنرل پولیس،متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز،کمشنر لاہورڈویژن،چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو،سی سی پی او لاہور،ڈی سی لاہور،ڈی آئی جی آپریشنز،ڈی جی پی ایچ اے،ڈی جی ایل ڈی اے،ایم ڈی پنجاب سیف سٹی اتھارٹی،سی ٹی او لاہور،سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔