18ویں ترمیم، این ایف سے ایوارڈ ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ سندھ اپنی ناکامی کا ملبہ وفاق پر ڈال رہے ہیں، حلیم عادل شیخ

جمعرات ستمبر 16:36

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 ستمبر2020ء) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی پریس کانفرنس پر پی ٹی آئی مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا سندھ میں برساتوں سے زیادہ تباہی کا ذمہ دار سندھ کا محکمہ ایریگیشن ہے وزیر اعلیٰ سندھ کو معلوم ہونا چاہیے کہ 12 سالوں میں برائے نام کئنالوں کی مرمت اور بھل صفائی کی گئی ہے، ایریگیشن میں کرپشن اور نالوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے آدھی سندھ ڈوبی ہوئی ہے، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے آج وفاق سے گلا آور بے حسی کی بات کی، 18وین ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے بعد تمام تر زمہ داری سندھ حکومت کی ہے، سارا بجیٹ سندھ حکومت کے پاس ہوتے ہوئی بھی وفاق پر الزامات لگائے جارہے ہیں، سندھ حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ وفاق پر ڈالنا چاہتی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر اعلیٰ کے منہ سے سات سو راشن بیگ کی بات اچھی نہیں لگتی ہے، ہم نے خود اپنی ٹیم کے ہمراہ اور گورنر سندھ نے ہزاروں راشن بیگس تقسیم کئے ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ، پی ڈٰی ایم اے کی جانب سے دیئے گئے ٹینٹ ہمیں کہیں نظر نہیں آئے۔ بلاول زرداری نے بھی 8 دن سیلاب متاثرہ علاقوں میں گذار دیئے لیکن کسی کی امداد نہیں کی۔ بلاول نے 8 دن صرف وفاق پر الزامات لگانے میں گذار دیئے۔

وفاق نے کرونا میں 60 ارب روپے سندھ کے خاندانوں کو دیئے تھے۔سندھ حکومت کا پرانا وطیرہ ہے خود کچھ نہیں کرنا نہ کسی کو کرنے دینا ہے۔وفاقی حکومت اور اس کے نمائندے سندھ کی عوام کے ساتھ ہیں، پہلے کرونا وبا میں بھی سندھ کی عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا اب بھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔سیلاب متاثرین کی بحالی کے کام کیا جارہا ہے امداد بھی متاثرہ علاقوں میں پہنچائی جارہی ہے۔