Live Updates

پارلیمنٹ حملہ کیس : عمران خان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ 29 اکتوبر کو سنایا جائے گا

انسداددہشت گردی عدالت کی وکیل صفائی کو تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت‘پی ٹی وی حملہ کیس میں وزیراعظم کی درخواست کو پہلے ہی الگ کیا جاچکا ہے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل اکتوبر 13:28

پارلیمنٹ حملہ کیس : عمران خان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ 29 اکتوبر کو ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔20 اکتوبر ۔2020ء) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت پارلیمنٹ حملہ کیس سے وزیراعظم عمران خان کی بریت سے متعلق درخواست کا فیصلہ 29 اکتوبر کو سنائے گی. انسداددہشت گردی عدالت کے جج رانا جواد عباس حسن نے درخواست کی سماعت کے دوران وکیل صفائی کو فیصلہ سنائے جانے سے قبل تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کی‘ جج نے پی ٹی وی حملہ کیس سے عمران خان کی بریت کا کیس الگ کردیا تھا.

عدالت پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے 2014 کے دھرنے کے دوران تشدد سے متعلق کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی بریت پر بھی فیصلہ سنائے گی.

(جاری ہے)

سماعت میں تحریک انصاف کے صوبائی وزیر علیم خان کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی درخواست کے مطابق علیم خان کورونا وائرس سے متاثر ہیں اس لیے ذاتی حیثیت میں پیش نہیں ہوسکتے، جس پر جج نے وکیل سے میڈیکل رپورٹ طلب کرتے ہوئے پی ٹی وی حملہ کیس میں عدالت نے وزیراعظم کے وکیل کو 12 نومبر تک دلائل سمیٹنے کی ہدایت کی.

وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف کوئی مواد ریکارڈ پر موجود نہیں اور ان کے خلاف سیاسی وجوہات کی بنا پر کیس بنایا گیاانہوں نے کہا کہ عمران خان نے خاص طور پر پارٹی کارکنان کو پر امن رہنے اور دھرنے کے دوران تشدد کا سہارا نہ لینے کی ہدایت کی تھی. وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ ہاﺅس اور پی ٹی وی کی عمارت پر حملہ کرنے والے شرپسند تحریک انصاف یا عوامی تحریک کے کارکنان نہیں تھے انہوں نے واقعے سے متعلق پیش کی گئی ضمنی رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں وزیراعظم اور تحریک انصاف کے دیگر قائدین کو بری الذمہ قرار دیا گیا تھا.

جج رانا جواد عباس نے وکیل کو عدالتی ریکارڈ کے لیے ضمنی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی اور ریمارکس دیے کہ پروسیکیوشن نے خود اس کیس کی مزید کارروائی کے لیے عدم دلچسپی ظاہر کی ہے یاد رہے کہ مئی 2018 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر تشدد کے کیس سے عمران خان کو بری کردیا تھا. پولیس نے دھرنے کے دوران تشدد کو ہوا کے الزام میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، اور راہنماﺅں ڈاکٹر عارف علوی،اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، اعجاز چوہدری اور دیگر کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ لاگو کیا تھا پروسیکیوشن کے پرانے موقف کے مطابق 3 افراد ہلاک، 26 زخمی ہوئے تھے جبکہ 60 کو گرفتار کیا گیا تھا، اس کیس کو برقرار رکھنے کے لیے پروسیکیوشن نے 65 تصاویر،لاٹھیاں، کٹر وغیرہ بھی عدالت میں پیش کیے تھے.

پروسیکیوشن کا موقف یہ تھا کہ احتجاج پر امن نہیں تھایاد رہے کہ 31 اگست 2014 کو تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے پارلیمنٹ ہاﺅس اور وزیراعظم ہاﺅس کی جانب مارچ کیا تھا اور اس دوران شاہراہ دستور پر ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی.
کرونا وائرس کی دوسری لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات