ہم حکومت کے خلاف جاری تحریک کو آ ئین اور قانون کے تحت آ گے بڑھائیں گے، سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن

پی ٹی آئی والے حرمین شریف میں کھڑے ہوکر گو نواز گو کے نعرے لگاتے رہے، اب انہیں مزار قائد کی حرمت کا خیال آ یا ہے، آ ئین و قانون کو پامال کرنا اور نہ ہی کسی نادیدہ قوت کا سہارا لینا چاہتے ہیں، میڈیا سے گفتگو

منگل اکتوبر 23:52

ہم حکومت کے خلاف جاری تحریک کو آ ئین اور قانون کے تحت آ گے بڑھائیں ..
حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اکتوبر2020ء) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم حکومت کے خلاف جاری تحریک کو آ ئین اور قانون کے تحت آ گے بڑھائیں گے، آ ئین و قانون کو پامال کرنا اور نہ ہی کسی نادیدہ قوت کا سہارا لینا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی والے حرمین شریف میں کھڑے ہوکر گو نواز گو کے نعرے لگاتے رہے، اب انہیں مزار قائد کی حرمت کا خیال آ یا ہے۔

(جاری ہے)

وہ جے یو آئی کے صوبائی رہنماء مولانا تاج محمد ناہیوں کے بھائی عبدالغفور ناہیوں کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہمیں خود اس بات پر افسوس ہے کہ ہم کیوں اداروں اور ان کی اعلیٰ شخصیات کا نام لے رہے ہیں یہ نوبت نہیں آ نی چاہئے تھی، انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ صورتحال کو ایک حقیقی جمہوریت کی طرف اور عوام کی حقیقی پارلیمنٹ کو وجود میں لایا جائے، انہوں نے کہا کہ جب تک ہم قوم اور ملک کو حقیقی پٹڑی پر نہیں ڈالتے معاملات بہتر نہیں ہوں گے، انہوں نے کہا کہ ہمارا پختہ نظریہ ہے کہ اداروں، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور بیوروکریسی کو غیر متعلقہ معاملات میں ملوث نہیں ہونا چاہئے، آئین نے ہر ادارے کے لئے ایک کردار متعین کیا ہے اس میں رہتے ہوئے یہ کام کریں، ہم اداروں اور شخصیات کا احترام کرتے ہیں اور ملک کو ایک قوم کی طرح دیکھنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ عوام حکومت کے اقدامات سے تنگ آ چکے ہیں، غریب افراد بچوں کے لیے راشن خریدنے، بجلی کا بل اور اسکول کی فیسیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں، کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سندھ حکومت اوران کی پارٹی کو صفدر صاحب کی گرفتاری پر ندامت ہے جس کا اظہار وزیرا علیٰ سندھ، آ صف علی زرداری اور ان کے وزراء نے بھی کیا ہے، انہوں نے کہا کہ یہی پی ٹی آئی خود مزار قائد پر ہلڑ بازی کرتی رہی ہے، اس کا تو کسی نے نوٹس نہیں لیا، لیکن اگر مسلم لیگ کے لوگ ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے ہیں تو اس کے یہ معنی لینا کہ بے عزتی کردی ہے یہ نامناسب ہے۔