سعودی عرب میں واٹر ٹینکر گاڑیوں پر اُلٹ گیا، 2 افراد جاں بحق

جدہ کے شاہ عبدالعزیز روڈ پر ہونے والے حادثے میں 5 افرادزخمی بھی ہوئے ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ اکتوبر 12:10

سعودی عرب میں واٹر ٹینکر گاڑیوں پر اُلٹ گیا، 2 افراد جاں بحق
جدہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔23 اکتوبر2020ء) سعودی عرب ایک ہولناک ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں 2افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سعودی ویب سائٹ سبق کے مطابق یہ واقعہ شمالی جدہ کے کنگ عبدالعزیز روڈ پر ارضیہ چوک کے قریب پیش آیا۔ جب ایک واٹر ٹینکر بے قابو ہو کر تین گاڑیوں پر اُلٹ گیا، جس کے نتیجے میں یہ گاڑیاں بُری طرح کچلی گئیں۔

گاڑی میں موجود 2 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ پانچ افراد زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق دو معمولی زخمی افرادکو ابتدائی طبی امداد دے کر گھر بھیج دیاگیا۔ باقی کے تین افراد کا علاج جاری ہے جن میں سے دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ سعودی شہری دفاع کی ٹیم نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی جائے حادثہ پر طبی امداد کا عملہ روانہ کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

تاہم واٹر ٹینک کے نیچے کچلی ان گاڑیوں میں پھنسے افراد کے باہر آنے کا راستہ نہیں تھا۔ واٹر ٹینکر کو ہٹا کر گاڑیوں کی باڈی کاٹ کر ان افراد کو باہر نکالا گیا۔ جن میں سے دو موقع پر ہی جاں بحق ہو چکے تھے۔ واضح رہے کہ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل حائل میں ایک خوفناک حادثے کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جن میں 4 پاکستانی تارکین بھی شامل تھے۔

یہ حادثہ حائل شہر سے 250 کلومیٹر دُور پیش آیاتھا جس کے نتیجے میں دو گاڑیوں میں سوار 9 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے۔ محکمہ شہری دفاع کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ پانچ افرادپر مشتمل سعودی خاندان اپنی گاڑی میں سفر کر رہا تھا جب سامنے سے آنے والی ایک پک اپ ان کی کار سے ٹکرا گئی۔جس کے نتیجے میں دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ تصادم کے نتیجے میں ایک ہی سعودی خاندان کے پانچ افراد اور پک اپ میں سوار چاروں پاکستانی موقع پر ہی دم توڑ گئے ۔

جب تک ابتدائی طبی امداد کی ٹیمیں موقع پر پہنچتیں، کوئی مسافر بھی زندہ نہیں بچا تھا۔ تمام بدنصیبوں کو حائل کمشنری کے مردہ خانے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق سعودی فیملی حائل کی رہائشی تھی۔ اس خاندان کا سربراہ حائل میں پولیس سارجنٹ تھے جن کا نام مرزوق الرشیدی بتایا گیا ہے۔ مرزوق اپنی بیوی ، دو بیٹیوں اورایک بیٹے کے ہمراہ اپنے ایک رشتہ دار کے ہاں جا رہے تھے۔ تاہم انہوں نے اپنے 17 سالہ بڑے بیٹے کو گھر پر ہی چھوڑ دیا تھا، ورنہ اس کی زندگی بھی شاید محفوظ نہ رہ پاتی۔