وزیراعلی پنجاب نے مہنگائی پر قابو پانے سہولت بازاروں کی چیکنگ کیلئے صوبائی وزراء،مشیروں اورمعاونین خصوصی کو ذمہ داریاں سونپ دی

جمعہ اکتوبر 20:55

وزیراعلی پنجاب نے مہنگائی پر قابو پانے سہولت بازاروں کی چیکنگ کیلئے ..
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 اکتوبر2020ء) وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے مہنگائی پر قابو پانے، اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کی مانیٹرنگ، سہولت بازاروں کی چیکنگ کے لئے صوبائی وزراء،مشیر اورمعاونین خصوصی کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔اس ضمن میں صوبائی وزیر پبلک پراسیکیوشن چوہدری ظہیر الدین نے فیصل آباد کا اچانک دورہ کرکے سہولت بازاروں کا معائنہ کیا اور اشیائے ضروریہ کی دستیابی، معیار اور قیمتوں کو چیک کیا۔

ڈویژنل کمشنر عشرت علی،ڈپٹی کمشنر محمد علی،ایم پی اے فردوس رائے، اسسٹنٹ کمشنرز سید ایوب بخاری اور عمر مقبول بھی ان کے ہمراہ تھے۔صوبائی وزیر کلیم شہید پارک، ریاض شاہد چوک اور دیگر سہولت بازاروں سمیت فیئر پرائس شاپس پر گئے اور چینی، آٹا، پھل وسزیاں، دالیں، گوشت اور کریانہ کی دیگر اشیاء کے سٹالز پر ان کی وافر دستیابی، معیار اور مقررہ کنٹرول قیمتوں پر فروخت کو چیک کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اشیاء کی قیمتوں کو براہ راست مانیٹر کررہے ہیں لہذا اوورچارجنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے موقع پر موجود خریداروں سے ملاقات کی اور ان سے سہولت بازاروں میں دستیاب اشیاء کے معیار اور قیمتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے کہا کہ بازاروں میں اشیاء عام مارکیٹ سے نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہیں اور انتظامی مشینری بازاروں کو عوامی سہولت کے مطابق بنانے کے لئے متحرک ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کا ایجنڈا ہے اورپرائس کنٹرول کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بازاروں کی مسلسل انسپکشن کا عمل جاری رہے گا اور بازاروں میں قیمتوں کو چیک کر کے وزیراعلیٰ آفس رپورٹ پیش کریں گے۔میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں بلاجواز اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عام مارکیٹوں اور بازاروں میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس متحرک ہیں اور اشیائے خورونوش کے گرانفرشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری ہے۔صوبائی وزیر نے نڑوالا روڑ پر سپر سٹورز کے باہر قائم فیئر پرائس شاپس بھی چیک کیں اور اشیاء مقررہ سرکاری نرخوں پر فروخت کرنے کے عمل اور بعض اشیاء کے معیار کو بھی چیک کیا۔