گستاخانہ خاکوں کا معاملہ، پاکستان کا پوپ فرانسس سے رابطہ کرنے کا فیصلہ

گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر یورپ اور امریکہ کے مذہبی رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا جائے گا، اسلام مخالف مواد کو شائع کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے شیخ جامعتہ الازہر سے بھی رابطہ کریں گے: وفاقی وزیر مذہبی امور

Shehryar Abbasi شہریار عباسی جمعرات اکتوبر 00:24

گستاخانہ خاکوں کا معاملہ، پاکستان کا پوپ فرانسس سے رابطہ کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اکتوبر2020ء) گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر پاکستان کا عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس سے رابطہ کرنے کا فیصلہ ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں اور اسلام مخالف مواد کے معاملے پر عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کو تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ پوپ فرانسس سے اپیل کی جائے گی کہ وہ باہمی تعاون کے لیے ایسے اقدامات کی مذمت کریں، ان کو بتایا جائے گا کہ ایسے اقدام سے ہم آہنگی کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر یورپ اور امریکہ کے مذہبی رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ نور الحق قادری نے کہا کہ وہ اسلام مخالف مواد کو شائع کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے شیخ جامعتہ الازہر سے بھی رابطہ کریں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ فرانس سمیت دیگر مغربی ممالک مسلمانوں کی دل آزاری کر رہے ہیں جبکہ آزادی اظہار رائے کی آزادی اور قیود کیا ہیں۔

نور الحق قادری نے کہا کہ وفاقی حکومت سرکاری سطح پر محفل میلاد ﷺ کا انعقاد کر رہی ہے، نعت خوانی، تقریری مقابلے، سیرت کانفرنس اور دیگر پروگرام بھی تشکیل دیے گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت و عقیدت کے اظہار کے لیے ملک بھر میں ہفتہ عشق رسول ﷺ منایا جائے گا۔ یاد رہے کہ وزیراعظم نے بھی رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کو عالمی فورم پر اجاگر کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، حرمت رسول ﷺ کا معاملہ ہر پلیٹ فارم پر اٹھائیں گے۔واضح رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فرانس کا اسلام سے متعلق رویہ قطعی قابل قبول نہیں ہوگا، مغرب کی رسول اللہﷺ کے گستاخانہ خاکے بنانے والوں کی حمایت تمام مسلمانوں کی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے ، عزت اور دوسروں کے مذہبی و اخلاقی اقدار کو مد نظر رکھ کر ہونی چاہیے ۔ مغرب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پیغمبر اسلام ﷺ تمام مسلمانوں اور آزادی کے پروانوں کے لیے مقدس ہستی ہیں، ان کی توہین تمام مسلمانوں ، انسانی اقدار اور اخلاقیات کی توہین ہے ، ان کا کہنا تھا کہ مغرب کو اور بالخصوص فرانس کو مسلمانوں کے حوالے سے اپنے نؓطریات بدلنے پڑیں گے اور فرانس کو گستاخانہ خاکوں کے معاملے میں عالم اسلام سے معافی مانگنی چاہیے ۔