حضور اکرم ﷺکی شان میں گستاخی کسی صورت قبول نہیں کریں گے،

وزیراعظم عمران خان کا قومی رحمتہ العالمین ﷺکانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب

جمعہ اکتوبر 17:23

حضور اکرم ﷺکی شان میں گستاخی کسی صورت قبول نہیں کریں گے،
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔اے پی پی ۔30اکتوبر ۔2020ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حضور اکرم ﷺکی شان میں گستاخی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔مسلمان ممالک کو متحد ہو کر مغربی ممالک کو بتانا ہوگا کہ اس طرح کے اقدامات سے سوا ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے، یورپ میں ہولوکاسٹ پر بات نہیں کی جا سکتی، ماضی میں منصوبہ بندی نہ کرنے کے باعث ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو عیدمیلادالنبی ﷺکے سلسلہ میں قومی رحمتہ العالمین ﷺکانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس کا موضوع ”ماحولیاتی آلودگی اور ہماری ذمہ داری“ تھا۔انہوں نے کہاکہ یہ کانفرنس ہر سال منعقد کی جائے گی، پاکستانی عوام بالخصوص نوجوانوں کو حضور اکرم ﷺکی حیثیت سے متعلق مکمل آگاہی دینی ہے۔

(جاری ہے)

حضرت محمد ﷺکی سیرت طیبہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ حضرت محمد ﷺجیسا عظیم انسان آیا ہے اور نہ ہی آئے گا، دنیا کی سو عظیم شخصیات میں حضور اکرم ﷺکا پہلا نمبر ہے، اﷲنے قرآن پاک اور حضور اکرم ﷺکی زندگی کے ذریعے ہمیں راہ دکھائی۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں ہم نے مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں کی جس کے ماحولیاتی صورتحال پر اثرات مرتب ہوئے ہیں، ہمارے خطے میں ماحولیاتی صورتحال سنگین ہے، گرمی کی شدت کے باعث گلیشیئر پگھل رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

  انہوں نے کہاکہ مسلمانوں نے قوت ایمانی کے باعث کامیابی حاصل کی۔ ان کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، یہ انقلابی دور تھا جس میں اقلیتوں کو بھی حقوق حاصل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ساتویں سے نویں کلاس تک سکولوں میں حضور اکرم ﷺکی سیرت طیبہ کی تعلیم کیلئے قانون سازی کریں گے۔ سیرت طیبہ کی پیروی سے ہماری زندگی میں بہتری آئے گی۔او آئی سی کے سربراہان مملکت کے اجلاس میں اسلاموفوبیا کا معاملہ اٹھایا، انہیں اس معاملے پر اتفاق رائے سے آواز اٹھانے کا مشورہ دیا۔

مغرب میں رہنے والے حضرت محمد ﷺکے ساتھ ہمارے تعلق سے آگاہ نہیں، ہم اﷲ کے تمام پیغمبروں کا ادب و احترام کرتے ہیں۔سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف مسلمانوں نے آواز اٹھائی، مغرب میں یہ تاثر لیا جاتا ہے مسلمان اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہیں اور تنگ نظر ہیں۔ اس حوالہ سے منظم مہم چلائی گئی۔ مغرب کا ایک چھوٹا سا طبقہ اسلام کے خلاف ہے، مسلمانوں کو برا دکھانا چاہتے ہیں، ہمیں مغربی ممالک کو حضرت محمد ﷺکے ساتھ اپنے لگاو سے آگاہ کرنا چاہئے۔

یورپی ممالک میں ہولوکاسٹ پر بات نہیں کی جا سکتی، ہمیں ایسی کوئی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو، دنیا میں سوا ارب مسلمان ہیں، اسلاموفوبیا کے معاملے پر دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ رابطے کروں گا۔افغانستان، شام، عراق میں لاکھوں مسلمان شہید ہوئے، حضور اکرم ﷺکی بے حرمتی کسی صورت قبول نہیں کریں گے، تمام مسلمان ممالک کو اس حوالے سے خطوط لکھے ہیں۔

اس طرح کی صورتحال میں مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں پر زندگی تنگ ہو جاتی ہے، امت مسلمہ کے تمام رہنماوں کو یورپی یونین اور مغربی ممالک کو بتانا چاہئے کہ ہم اظہار رائے کی آزادی کے خلاف نہیں تاہم توہین آمیز خاکوں سے سوا ارب مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔پاکستان ایک نظریہ کے نام پر بنا ہے، ہم نے اسے ریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا، یہ ہمارا وژن اور نظریہ تھا ،پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے سیرت النبی ﷺپر مقالے، کتابیں لکھنے والے مصنفین میں انعامات بھی تقسیم کئے۔ کانفرنس میں وفاقی وزراء، مختلف ممالک کے سفیروں اور مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علماءکرام نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی خطاب کیا۔