سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد برازیل میں ہنگامے

DW ڈی ڈبلیو ہفتہ نومبر 22:00

سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد برازیل میں ہنگامے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 21 نومبر 2020ء) سکیورٹی گارڈز کا تعلق فرانسیسی روزمرہ اشیا والی بین الاقوامی سُپر مارکیٹ 'کارفور‘ سے ہے۔ سیاہ فام شخص کی ہلاکت برازیلی شہر پورٹو الیگری میں جمعہ بیس نومبر کو ہوئی۔

اس تاریخ کو برازیل میں ہر سال 'بلیک کانشس ڈے‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ برازیل میں سیاہ فام کمیونٹی کی اہمیت اور ملکی خدمات کے اعتراف میں 'بلیک کانشس ڈے‘ کے موقع پر خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

لیکن اسی دن ایک سیاہ فام کو کارفور کے سفید فام سکیورٹی گارڈز نے مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

برازیلی جورج فلوئیڈ

جس سیاہ فام برازیلی شہری کی ہلاکت ہوئی ہے، اس کا نام البرٹو سلویرا فرائٹاس ہے۔ اس کے قتل کے واقعے کی وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ اس شہری کو سپر مارکیٹ کے باہر ایک سکیورٹی گارڈ نے پکڑ کر رکھا ہوا ہے اور دوسرا گارڈ سیاہ فام شخص کے چہرے پر ضربیں لگا رہا ہے۔

(جاری ہے)

دستیاب فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ضربیں لگانے کے بعد محافظ اپنا گھٹنا فرائٹاس کے چہرے پر رکھے ہوئے ہے۔ کار فور کے برازیلی دفتر کی انتظامیہ نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔

کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ سیاہ فام شہری کی ہلاکت میں ملوث سکیورٹی گارڈ کو فارغ کرنے کی اطلاع سکیورٹی کمپنی کو دے دی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والے کو مظاہرین 'برازیلی جارج فلوئیڈ‘ قرار دے رہے تھے۔

پورٹو الیگری اور دوسرے شہروں میں احتجاج

اس واقعے کے بعد پورٹو الیگری کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے شہروں میں ہنگاموں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا اور مظاہرین نے کار فور کے باہر نعرہ بازی کرتے ہوئے 'بلیک لائیوز میٹر‘ اور 'کار فور کِلر‘ کے نعرے بھی لگاتے رہے۔

ایک بینر پر 'کارفور کے ہاتھ سیاہ فام انسان کے خون سے رنگے ہیں‘ بھی لکھا ہوا تھا۔

کارفور کے کئی اسٹورز کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی گئی۔

اس ہلاکت میں ملوث سفید فام کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ برازیلی نائب صدر ہملٹن موراؤ نے بھی اس ہلاکت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک میں نسلی تعصب نہیں پایا جاتا لیکن کچھ عناصر اسے برازیل برآمد کرنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔

بلیک کانشس ڈے پر قتل

برازیلی سیاہ فام شہری البرٹو سلویرا فرائٹاس کی ہلاکت جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب میں ہوئی۔

مظاہرین نے اسے 'بلیک کانشس ڈے‘ پر ایک سیاہ فام کی قربانی قرار دیا۔

اس ہلاکت پر برازیلی ریاست 'ریو گرانڈے ڈو سُل‘ کے گورنر ایڈوارڈو لائٹی نے بھی شدید مایوسی اور دکھ کا اظہار کیا۔ لائٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ جس دن سیاہ فام کمیونٹی کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں اور عوامی شعوری بیداری کو منایا جاتا ہے، اسی دن ایک سیاہ فام شہری کی ہلاکت انتہائی افسوس ناک ہے۔

پورٹو الیگری اسی ریاست کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔

بلیک لائیوز میٹر تحریک

پورٹو الیگری اور دوسرے برازیلی شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں مظاہرین مقتول فرائٹاس کا موازنہ امریکی سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کے ساتھ بھی کرتے رہے۔

فلوئیڈ کو ایک امریکی پولیس اہلکار نے گردن پر گھٹنا رکھ کر ہلاک کر دیا تھا اور پھر ساری دنیا میں 'بلیک لائیوز میٹر‘ کی تحریک شروع ہو گئی تھی۔ اس تحریک کے حق میں ساری دنیا کے مختلف شہروں میں احتجاجی جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں۔ اس تحریک کی بازگشت اب بھی سنائی دے رہی ہے۔

برازیل میں سیاہ فام اور ملی جلی رنگت کے افراد کا مجموعی آبادی میں تناسب ستاون فیصد ہے۔

ع ح/ ش ح (اے پی، روئٹرز)