دیکھو مسٹر کرزائی پاکستان کی آپ سے پچاس فیصد زیادہ ضرورت اور اہمیت ہے،جوبائیڈن نے حامد کرزائی کوڈانٹ کرچپ کروا دیا

2008میں جب حامد کرزائی نے پاکستان کے خلاف شکایت کے انبار لگائے تو جوبائیڈن غصہ ہو گئے،سینیٹر مشاہد حسین سید

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات جنوری 05:45

دیکھو مسٹر کرزائی پاکستان کی  آپ سے پچاس فیصد زیادہ ضرورت اور اہمیت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جنوری2021ء) ٹرمپ جا چکا اور جوبائیڈن امریکہ کے نئے صدر کے طور پر حلف لے کر نئے ایگزیکٹو آرڈرز جاری کرنا بھی شروع کر دچکے ہیں۔دنیا کے کئی ممالک ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ کی تبدیلی سے بہت فرق پڑتا ہے اور وہ اس بدلتی صورت حال کو بڑے غور سے دیکھ رہے اور اس کے مطابق چال چلیں گے۔پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ان چند اہم ممالک میں ہوتا ہے کہ جن کے امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں اور اسے بھی امریکہ کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔

اب جوبائیڈن کے جیتنے پر پاکستان کے سیاسی حلقوں کے علاوہ دانشوروں کے حلقے میں بھی گفتگو شروع ہو چکی ہے۔حامد میر نے اپنے پروگرام میں جوبائیڈن سے متعلق بات کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید سے سوال کیا کہ جوبائیڈن کا جیتنا پاکستان کے لیے کیسا رہے گااور 2008میں جب جوبائیڈن نے دورہ افغانستان کیا تھا تب وہاں کیا ہوا تھا۔

(جاری ہے)

مشاہد حسین سید نے کہا کہ جوبائیڈن پاکستان سے متعلق اچھے خیال رکھتا ہے اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ 2008میں کابل دورے پر جب اس وقت کے افغانی صدر حامد کرزائی نے جوبائیڈن سے پاکستان مخالف باتیں کرنا شروع کیں اور شکایات کے انبار لگا دیے تو جوبائیڈن غصہ ہو گئے اور طیش میں آ کر کرزائی سے کہا سنو مسٹرکرزائی ہمیں پاکستان کی آپ سے پچاس فیصد زیادہ ضرورت ہے اس لیے اس قسم کی باتیں کرنا بند کرواور کوئی کام کی بات کرو۔

مشاہد حسین نے کہا کہ میرے اندازے کے مطابق جوبائیڈن غصے میں قدرے تیز ہے اور اس نے پاکستان کے معاملے پر افغانی صدر کو بھی جھاڑ پلا دی تھی اور میرا خیال ہے کہ اب بھی جوبائیڈن کی نظر میں پاکستان کی اتنی ہی ضرورت ہے۔اور خاص طور پر اس خطے میں امریکہ کا اس وقت کوئی دوست نہیں ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات ویسے بھی بہترین رکھنا چاہے گا۔