وادی مقبوضہ کشمیر کی 90 دہائی میں واپسی،سخت ترین سرچ آپریشن

مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں سرکاری فوج کے ذریعہ کشمیریوں کے کی زندگیاں اجیرن بنا دی گئیں

منگل فروری 14:42

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 فروری2021ء) وادی مقبوضہ کشمیر کی 90 دہائی میں واپسی،سخت ترین سرچ آپریشن ،مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں سرکاری فوج کے ذریعہ کشمیریوں کے کی زندگیاں اجیرن بنا دی گئی ہیں اور اسی طرح چوکوں چوراہوں میں لوگوں کو قطاروں میں کھڑا کرکے گھنٹوں تلاشیاں لی جا رہی ہیں جیسے 90 کی دہائی میں کیا جاتا تھا تاجر اپنے کاروبار اور طالبعلم اپنے تعلیمی اداروں تک جانے سے پریشان ہیں ہر روز کے کریک ڈاؤن کے بارے میں اپنے والد سے خوفناک کہانیاں سن کر پچیس سالہ عابد لون بڑا ہوا تھا اور وہ کہتا ہے کہ میرے والد کے لئے یہ معمول تھا تاہم آج میں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کل بروز پیر کی سہ پہر کو وقت کی گھڑیاں 1990 کی دہائی کی طرف موڑ گئی ہیں کہ جب وادی کشمیر میں شورش عروج پر تھی اور اس طرح کے بے ترتیب سرچ آپریشن جاری تھے سرکاری فوج نے کشمیر کے مرکزی شہر سرینگر کے مرکز میں واقع بازار کے علاقے میں فوری چوکیاں بنائیں اور تمام مردوں کو قطار میں کھڑا کیاجو دکاندار تھے ان کو بھی باہر آنے کی ہدایت کی گئی چند روز قبل مسلح عسکریت پسند مجاھدین نے ایک حملے میں دو پولیس اہلکاروں کو سرعام بازار میں ہلاک کردیا تھاجن کی شناخت لشکر طیبہ سے وابستہ کے مقامی مجاھدین کے طور پر کی گئی ہے جن میں ثاقب نامی نوجوان بھی شامل ہینیز فوج ڈرونز کے ذریعے سارے علاقے کو سرچ کر رہی ہے گزشتہ حملے سے انڈین فوج سخت گھبرا گئی ہے جس کانہ بولتا ثبوت اتنا بڑا سرچ آپریشن ہے۔