پنجاب اور وفاقی حکومت جہانگیر ترین کی جیب میں ، گرانے کیلئے جہاز گھمانے کی ضرورت نہیں پڑیگی

جہانگیر ترین نے ہم سے رابطہ کیا تو پارٹی پالیسی کے مطابق فیصلہ کریں گے ، جہانگیر ترین کے ساتھ جو اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کی تعداد ہے اس سے پنجاب حکومت ان کی دائیں اور وفاقی حکومت بائیں جیب میں ہے ، ، ن لیگی رہنماء رانا ثناء اللہ کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی جمعرات اپریل 13:55

پنجاب اور وفاقی حکومت جہانگیر ترین کی جیب میں ، گرانے کیلئے جہاز گھمانے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 08 اپریل2021ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کے ساتھ جو اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کی تعداد ہے ، اس سے پنجاب حکومت ان کی دائیں اور وفاقی حکومت بائیں جیب میں ہے ، حکومت گرانے کیلئے انہیں جہاز گھمانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین نے ہم سے رابطہ کیا تو پارٹی پالیسی کے مطابق فیصلہ کریں گے ، آج جہانگیر ترین کہہ رہے ہیں کہ میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، لیکن مسلم لیگ ن کے خلاف ہونے والی کارروائی پر جہانگیر ترین نے کبھی نہیں کہا کہ ظلم ہو رہا ہے۔

سابق وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں واضح اکثریت سے کامیاب ہوگی اور اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی طرف سے حکومت مخالف تحریک کے اور ووٹ کی عزت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی جائے گی جس کے لیے آئندہ پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں ایک ایجنڈا طے کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین جیل چلے جائیں گے مگر تحریک انصاف نہیں چھوڑیں گے ، وہ پنجاب میں یا وفاق میں کسی تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہیں بنیں گے ، جہانگیر ترین سے نہ کسی پارٹی نے رابطہ کیا اور نہ ہی وہ کس پارٹی میں جانے کے لیے تیار ہیں ، جہانگیر ترین عمران خان کے ساتھ ہیں ، اپنے کیس کا دفاع عدالت میں کریں گے ، وزیر اعظم عمران خان کو بہت جلد احساس ہو جائے گا کہ جہانگیر ترین کے ساتھ غلط ہوا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے لئے جہانگیر ترین نے بہت اہم کردار کیا ، دونوں کا اس کے لئے آپس میں رابطہ تھا ، جہانگیر ترین اپنے گاؤں سے خصوصی طور پر اسلام آباد آئے اور ارکان اسمبلی کو عمران خان کو ووٹ دینے کے لیے قائل کیا ، وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ ملنے کے بعد مخالف لابی حاوی ہو گئی اور وزیراعظم سے یہ کام کروا لیا ، چینی سٹاکسٹ کی جو لسٹ بنی اس میں جہانگیر ترین کے سوا شوگر ملز کا کوئی دوسرا مالک شامل نہیں ہے۔