سرگودھا: 7 برس کی عمر میں اغوا کی گئی لڑکی 7 سال بعد بازیاب، ملزم طویل عرصہ جنسی زیادتی کرتے رہے

اغواء کار بچی کو پہلے خوشاب اور پھر چکوال میں اینٹوں کے بھٹے پر لے گئے جہاں مرکزی ملزم احمد علی بچی سے ناصرف جبری مشقت لیتا بلکہ اسے اپنی ہوس کا نشانہ بھی بناتا رہا اس کے علاوہ اینٹوں کے بھٹے کے مالک سمیت دیگر 4 ملزم بھی بچی سے جنسی زیادتی کرتے رہے۔ پولیس

Sajid Ali ساجد علی اتوار مئی 12:02

سرگودھا: 7 برس کی عمر میں اغوا کی گئی لڑکی 7 سال بعد بازیاب، ملزم طویل ..
سرگودھا ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 9 مئی 2021ء ) صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں 7 سال قبل 7 برس کی عمر میں اغواء کی گئی لڑکی کو بازیاب کروا لیا گیا ، اغواء کار طویل عرصے تک لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق سرگودھا میں مقام حیات کے رہائشی محنت کش یونس کی 7 سالہ بیٹی ام کلثوم کو 20 مئی 2014 کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ بھائی کے ساتھ چیز لینے گھر کے قریب دکان پر جا رہی تھی ، اغواء کار بچی کو پہلے خوشاب اور پھر چکوال میں اینٹوں کے بھٹے پر لے گئے جہاں 57 سالہ مرکزی ملزم احمد علی بچی سے ناصرف جبری مشقت لیتا بلکہ اسے اپنی ہوس کا نشانہ بھی بناتا رہا اس کے علاوہ اینٹوں کے بھٹے کے مالک سمیت دیگر 4 ملزم بھی بچی سے جنسی زیادتی کرتے رہے ، مرکزی ملزم احمد علی نے بچی سے جعلی نکاح بھی کر لیا ، اس دوران 13 برس کی عمر میں بچی نے بیٹے کو بھی جنم دیا۔

(جاری ہے)

پولیس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ لڑکی کے اغواء ہونے پر مقدمہ درج کرکے اس کی تلاش شروع کردی گئی تھی تاہم ملزمان کی طرف سے متواتر جگہ بدلتے رہنے کی وجہ سے ابتدائی طور کامیابی نہ ہوسکی لیکن بالآخر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے چکوال سے 2 ملزم احمد علی اور شعیب کو گرفتار کرکے بچی کو بازیاب کروا لیا گیا جب کہ زیادتی کے دیگر 2 ملزمان انتقال کرچکے ہیں۔

دوسری جانب صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں سگی بیٹی سے جنسی زیادتی کے الزام میں باپ کو گرفتار کرلیا گیا ، یہ واقعہ گاؤں 155/9 میں پیش آیا ، جہاں پولیس نے ایک شخص کو مبینہ طور پر اپنی بیٹی کا ریپ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ، مشتبہ ملزم ایک دہاڑی دار مزدور ہے جس کے 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں ، جس نے متاثرہ اپنی سگی بیٹی کو ایک کمرے میں اکیلی دیکھ کر اسے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنادیا ، جب کہ گھر کے دیگر افراد برآمدے میں سورہے تھے ، پولیس نے متاثرہ لڑکی کے بھائی کی شکایت پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

بتایا گیا کہ پولیس کو 15 پر شکایت گزار کی جانب سے کال موصول ہوئی کہ اس کا والد اس کی 15 سالہ بہن کا ریپ کر کے فرار ہوگیا ، لڑکی کے رشتے کے معاملے پر باپ اور بیٹوں کے درمیان تنازع تھا ، لڑکی کا والد اپنی ایک بیٹی کی شادی اپنے بھتیجے سے کرنا چاہتا تھا جب کہ بیٹے کہیں اور رشتے کے لیے اصرار کررہے تھے۔