پی ٹی آئی رہنما صغیر چغتائی کی گاڑی کو حادثہ ، بیٹے نے والد کی موت کو سازش قرار دیا

احمد صغیر نے والد کی موت کو سیاسی قتل اور سازش قرار دیتے ہوئے آزاد کشمیر اور پاکستان کے اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا،صغیر چغتائی کی لاش کی تلاش کے لیے آپریشن جاری

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر 14 جون 2021 12:26

پی ٹی آئی رہنما  صغیر چغتائی کی گاڑی کو حادثہ ، بیٹے نے والد کی موت کو ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 جون 2021ء) : پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اسمبلی سردار صغیر چغتائی اور ساتھیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن تیسرے دن بھی جاری رہا۔آزاد پتن میں پاک فوج،پاک نیوی، سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سمیت مقامی رضا کاروں نے سردار صغیر چغتائی اور ساتھیوں کی تلاش کے لیے پورا دن سرچ آپریشن جاری رکھا۔غوطہ خور ٹیم نے ہیوی مشینری کی مدد سے حادثے کا شکار ہونے والی ایک کار باہر نکال لی ہے تاہم سردار صغیر چغتائی کی گاڑی کا ابھی تک سراغ نہیں ملا۔

حادثے کا شکار ہونے والی دوسری گاڑی سے زندہ بچ جانے والے راولپنڈی کے رہائشی ذیشان جاوید نے انکشاف کیا کہ حادثے کا شکار ہو کر دریائے جہلم میں بہہ جانے والی گاڑیاں دو نہیں تین تھیں۔جن میں سردار صغیر چغتائی کی ویگو گاڑی بھی شامل تھی۔

(جاری ہے)

جب کہ صغیر چغتائی کے بیٹے احمد صغیر نے اس حادثے کو سیاسی قتل اور سازش قرار دیتے ہوئے آزاد کشمیر اور پاکستان کے اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق ممبر قانون ساز اسمبلی اور تحریک انصاف کے ٹکٹ ہو لڈر حلقہ 5 پونچھ پاچھیوٹ صغیر چغتائی کی گاڑی مخالف سمت میں آنیوالی کار سے ٹکرانے کے بعد دریا ئے جہلم میں ڈوب گئی جس کے نتیجے میں صغیر چغتائی اپنے ڈرائیور اور پولیٹکل ایڈوائزر احتشام سعید سمیت جاں بحق ہوگئے ، پاکستان آرمی کے سپیشل دستے ،غوطہ خور ،ہیلی کاپٹر ز اور مقامی آبادی کے تعاون سے ڈوبنے والوں کی بازیابی کے لیے کو ششیں جاری ہیں ۔

عینی شاہدین کے مطابق دونوں گا ڑیاں دریا میں جا گریں اس حا دثے کی اطلاع ملتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی اور ڈوبنے والوں کی تلاش شروع کر دی فوری طور پر ایک شخص کی لاش جھا ڑیوں سے ملی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ سامنے سے آ نے والی گا ڑی کلٹس گا ڑی پر سوار تھا صغیر چغتائی انکے ڈرائیور اور ساتھی کی تلاش جاری ہے جبکہ دوسری گا ڑی پر سوار صغیر چغتائی کا فوٹو گرافر اور سٹاف اہلکار کی گاڑی حا دثہ میں محفوظ رہی ۔