Live Updates

سعودی عرب میں خواتین ماڈلز کا فیشن پروگرام منعقد کرانے کا اعلان ہوگا

اگلے ہفتے ہونے والا فیشن پروگرام ریاض اور نیویارک سے براہ راست نشر کیا جائے گا

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر 14 جون 2021 14:18

سعودی عرب میں خواتین ماڈلز کا فیشن پروگرام منعقد کرانے کا اعلان ہوگا
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔14 جون2021ء) سعودی عرب کی صدیوں سے پہچان ایک روایت پرست ملک کی رہی ہے جہاں خواتین گھر کی چار دیواری اور پردے میں محدود تھیں۔ تاہم موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان سعودی مملکت کوایک اعتدال پسند ریاست کی شناخت دینا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے خواتین کے لیے کئی شعبوں کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ مملکت میں ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔

جس کو مملکت کا ایک طبقہ ناپسند بھی کرتا ہے۔ سعودی عرب میں اب خواتین ماڈلز کا فیشن پروگرام بھی منعقد کیا جائے گا، جس کی کارروائی براہِ راست نشر بھی کی جائے گی۔ اُردو نیوز کے مطابق سعودی عرب کے فیشن کمیشن نے ایک نئے ڈیجیٹل اقدام کا اعلان کیا ہے جوآئندہ ہفتے ریاض اور نیو یارک سے براہ راست نشر کئے جانے والے ایونٹ کے ساتھ شروع ہوگا۔

(جاری ہے)

فیشن فیوچر جوسعودی عرب میں فیشن کے شعبے کے لئے وقف کردہ پہلے پروگرام کے طور پر2019 میں متعارف کرایا گیا تھا، فیشن فیوچرز لائیو: استحکام اور جدت کی جانب پیشرفت 17جون کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر دوبارہ لانچ ہو گا۔سعودی عرب اور امریکہ میں بیک وقت ہونے والے اس ایونٹ کو خصوصی انٹرایکٹیو ورچوئل پلیٹ فارم کے ذریعے شرکاکے لئے آن لائن پیش کیا جائے گا۔

فیشن کمیشن کے سی ای او براک کاکمک نے کہاہیکہ ہمیں کاروبار کے استحکام میں دنیا کے کچھ بڑے ذہنوں کی میزبانی کرنے کا اعزاز حاصل ہواہے۔ہم آج ان گمبھیر مسائل ، خاص طور پر کورونا وائرس کی وبا پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مقامی اور بین الاقوامی سطح پر جدید ، پائدار اور مناسب فیشن سیکٹر کیاآغاز کے لئے ایک مثال کے طور پر کام کرسکتا ہے۔

شیڈول کے مطابق براہ راست نشریات کا ایک اورپروگرام دسمبر میں ریاض میں ہوگا۔سعودی فیشن ڈیزائنر اور لگڑری فیشن برانڈ ہندمی کے بانی محمد خوجہ نے کہا کہ نئے فورم نے سعودی عرب اور مغرب کے مابین ثقافتی تبادلے کو مزیدآگے بڑھانے کے لئے ایک اوربلڈنگ بلاک تشکیل دیا ہے۔انہوں نے عرب نیوز کو بتایاکہ اس سے مملکت میں موجود ٹیلنٹ کی اہمیت اجاگر ہو سکے گی۔

اس کے ساتھ تعاون اور شراکت داری کی پرورش بھی ہوگی۔21 سالہ سعودی طالبہ کندا جمبی نے عرب نیوزسے گفتگو کے دوران کہا کہ لگتا ہے ہماری مملکت ایسے مواقع کی ایک نئی راہ پر گامزن ہے مملکت ہمیں ساری دنیا سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کھڑے ہونے کے لئے تقویت فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اس شعبے کو بطور کریئر اپنانے کا منصوبہ بنا رہی ہوں۔انہوں نے کہا کہ اب فیشن محض شوق نہیں رہا بلکہ یہ ایک جاب بن گیا ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات