تنقید کی زد میں رہنے والے عثمان بزدار کا کارنامہ، برسوں بعد پہلی مرتبہ پنجاب کے ذمے مجموعی قرضے میں کمی

صوبے کے واجب الادا قرضے میں 41.3ارب روپے کی کمی، رواں مالی سال کے اختتام پر کل قرض 956.4ارب روپے کی سطح پر آ گیا

muhammad ali محمد علی بدھ 16 جون 2021 21:14

تنقید کی زد میں رہنے والے عثمان بزدار کا کارنامہ، برسوں بعد پہلی مرتبہ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جون2021ء) تنقید کی زد میں رہنے والے عثمان بزدار کا کارنامہ، برسوں بعد، پہلی مرتبہ پنجاب کے ذمے مجموعی قرضے میں کمی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے ذمے مجموعی قرضے پاکستانی کرنسی میں41.3ارب روپے کم جبکہ امریکی ڈالر میں 26کروڑ70لاکھ ڈالر بڑھ گئی ۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام پر پنجاب کے ذمے مجموعی قرضے 4.1فیصد کم جبکہ امریکی ڈالر میں4.5فیصد بڑھ گئے ۔

پنجاب کے ذمے مجموعی قرضوں کا حجم997.7ارب روپے تھاجو رواں مالی سال کے اختتام پر 956.4ارب روپے کی سطح پر آ گیا ۔ پنجاب کے ذمے مجموعی قرضوں میں 5.2ارب روپے کے مقامی جبکہ 951.2ارب روپے کے بیرونی قرضے شامل ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ برسوں بعد پہلی مرتبہ پنجاب کے واجب الادا قرضوں میں کمی آئی ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے دور کے اختتام پر پنجاب کے خزانے میں اربوں روپے موجود تھے، تاہم اس کے بعد شہباز شریف کے 10 سالہ دور میں پنجاب مسلسل قرضوں میں ڈوبا رہا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت نے اربوں روپے سرپلس بجٹ پیش کیا ہے۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنا بہترین بجٹ پیش کیا، ملکی تاریخ کا سب سے بہترین 53ارب روپے زائد سرپلس بجٹ پیش کیا۔ عالمی وباء کے باوجود صوبائی حکومت نے اپنے ٹارگٹ پورے اور ریونیوحاصل کئے۔وزیراعلی عثمان بزدار نے کہا کہ حکومت نے صحت کے شعبے میں 23 فیصداضافہ کیا،پنجاب بھر میں ہیلتھ کارڈ دئیے جائیں گے ،ہیلتھ کارڈبجٹ سے پنجاب بھرکوفائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصداضافہ کیاہے جنوبی پنجاب کے لئے 35فیصد فنڈز دئیے ہیں حکومت نے پہلی بار ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کیلئے 360 ارب روپے دئیے۔انہوں نے کہا کہ روڈ سیکٹر میں100 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔