”دہشت گردی کے الزام میں سعودی نوجوان کی سزائے موت غیر منصفانہ تھی“

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مصطفی الدرویش کا سر قلم کرنے پر اعتراض اُٹھا دیا،تنظیموں کے مطابق مصطفی نے جرائم کم عمری میں کیے تھے جن پر موت کی سزا نہیں بنتی

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ جون 13:38

”دہشت گردی کے الزام میں سعودی نوجوان کی سزائے موت غیر منصفانہ تھی“
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔18 جون2021ء ) چند روز قبل سعودی حکومت نے26سالہ نوجوان مصطفی الدرویش کو سیکیورٹی اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کی سازشوں میں ملوث ہونے، مملکت میں مسلح بغاوت میں حصہ لینے اور بدامنی پھیلانے کے الزامات میں سزا سنائے جانے کے بعد اس کی گردن قلم کر دی تھی۔ اس فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اعتراضات اٹھا دیئے ہیں۔

سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ الدرویش نے یہ سارے جُرم اگر کیے بھی تے تو اس وقت اس کی عمر بلوغت کو نہیں پہنچی تھی، اس وجہ سے اسے موت کی سزا دینا نہیں بنتی ہے۔ DW اُردو کے مطابق مصطفی الدرویش کو سن 2011 اور 2012 میں فسادات میں ملوث ہونے والے افراد سے ملاقاتیں کرنے، ''مسلح بغاوت میں حصہ لینے'' بدامنی پھیلانے، اور سکیورٹی فورسز کو ہلاک کرنے لیے سازشیں کرنے سمیت متعدد الزامات کے تحت قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔

(جاری ہے)

انہیں سن 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2018 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔اس برس مئی کے اواخر میں موت کی سزا کے خلاف وہ قانونی لڑائی ہار چکے تھے۔انسانی حقوق کے کارکنان نے متنبہ کیا تھا کہ اب ان کی موت کی سزا پر عمل یقینی ہے الّا یہ کہ شاہ سلمان خود اس میں مداخلت کریں۔مصطفی الدرویش کا تعلق سعودی عرب کی اقلیتی شیعہ برادری سے تھا ۔ درویش کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے نے عرب سپرنگ کے دوران صرف حکومت مخالف مظاہروں میں ہی حصہ لیا تھا۔

انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کے مطابق 26 سالہ درویش کو جن الزامات کا سامنا تھا وہ ان سے اس وقت سرزد ہوئے ہوں گے جب ان کی عمر تقریباً 17 یا اٹھارہ برس کی رہی ہو گی۔تاہم سعودی حکام کا دعوی ہے کہ اس وقت وہ سن بلوغت کو پہنچ چکے تھے تاہم حکام نے اس سلسلے میں کوئی دستاویز یا ثبوت فراہم نہیں کیا۔مصطفی الدرویش کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں جرائم قبول کرنے کے لیے دوران حراست اذیتیں دی گئی تھیں اور بعد میں انہوں نے اپنے اقبالیہ بیان سے انحراف بھی کیا تھا۔

ان کے گھر والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں درویش سے رابطہ کرنے بھی نہیں دیا گیا جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا دعوی ہے کہ اس مقدمے کی سماعت انصاف پر مبنی نہیں تھی۔درویش کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ منگل کے روز سزائے موت پر عمل سے متعلق انہیں اطلاع تک نہیں دی گئی اور انہیں اس کی جانکاری آن لائن میڈیا سے ملی۔ ان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ درویش کو، ''چھ برس قبل ان کے دو دوستوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس نے انہیں بغیر کسی الزام کے رہا بھی کر دیا تھا تاہم ان کا فون ضبط کر لیا تھا۔ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ فون سے دستیاب ایک فوٹو پر انہیں سخت اعتراض تھا۔''''بعد میں انہوں نے ہمیں فون کیا اور درویش کو فون واپس لے جانے کے لیے بلایا لیکن فون دینے کے بجائے انہوں نے اسے حراست میں لے لیا۔ وہ ایک لڑکے کو فون میں ایک تصویر کی وجہ سے موت کی سزا کیسے دے سکتے ہیں؟''ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی متعدد عالمی تنظیموں نے اس بنیاد پر درویش کو موت کی سزا نہ دینے کی اپیل کی تھی کہ ان سے جو بھی غلطیاں سرزد ہوئیں وہ سن بلوغت تک پہنچنے سے پہلے ہی ہوئی تھیں۔