پولیس نے بلوچستان اسمبلی کے درجنوں ارکان کو گرفتار کر لیا

بلوچستان اسمبلی کے باہر پولیس اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ، بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن اركان كے خلاف 17 مختلف دفعات كے تحت مقدمہ درج ، پولیس حکام

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری پیر جون 19:56

پولیس نے بلوچستان اسمبلی کے درجنوں ارکان کو گرفتار کر لیا
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین 21جون 2021) بلوچستان اسمبلی کے باہر پولیس اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ، پولیس نے بلوچستان اسمبلی کے درجنوں ارکان کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ پولیس نے بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن اركان كے خلاف 17 مختلف دفعات كے تحت مقدمہ درج كیا تھا، اور ایف آئی آر میں تحریر کیا گیا کہ اپوزیشن اركان نے پولیس اہلکاروں سے جھگڑا كیا، اور انہیں جان سے مارنے كی دھمكیاں دیں۔

دوسری جانب گزشتہ روز ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اپوزیشن ارکان نے مشاورت کی اور آج اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈوکیٹ سمیت 16 اراکین اسمبلی نے گرفتاری دے دی۔ انسپكٹر محمد ناصر كی مدعیت میں بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سكندر خان ایڈوكیٹ، احمد نواز، اخترحسین لانگو، ثناء بلوچ، شكیلہ دہوار، واحد صدیقی، حمل كلمتی، عزیز اللہ آغا، نصیر شاہوانی، نصر اللہ زہری، زابد ریكی، اكبر مینگل، اصغر ترین، حاجی نواز كاكڑ، مكھی شام لعل، بابو رحیم مینگل اورمولوی نور اللہ كے خلاف مقدمہ درج كیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ 18جون کو صوبہ بلوچستان اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے قبل اپوزیشن نے صوبائی اسمبلی کے چاروں گیٹ تالے لگا کر بند کردیے تھے۔، پولیس اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی، جس سے کئی ایم پی ایز زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس حکام نے ایم پی اے ہاسٹل کےقریب اسمبلی گیٹ کھلوانے کی کوشش کی جس پر اپوزیشن ارکان اور پولیس حکام میں تلخ کلامی ہوئی تاہم پولیس حکام اسمبلی گیٹ کا تالا کھلوانے میں ناکام رہے ، جس کے بعد پولیس کی بکتر بند گاڑی نے ٹکر مار کر بلوچستان اسمبلی کا گیٹ توڑدیا ، جس کے بعد بلوچستان اسمبلی کے باہر اپوزیشن ارکین اور پولیس آمنے سامنے آگئے ، اس حوالے سے قائد حزب اختلاف بلوچستان اسمبلی ملک سکندرنے کہا کہ آج ہم بلوچستان اسمبلی کے چوکیدار ہیں ، کسی کو اسمبلی کے اندر جانے نہیں دیں گے اور حکومت بجٹ پیش کرکے دکھائے۔