کرونا وائرس: شرح سود 7 فیصد برقرار رہنے کا امکان
لاک ڈاون کے باعث کاروباری اوقات پر پابندیاں سخت ہوگئی ہیں جس سے کاروبار متاثر ہونگے ،معاشی ماہرین
ہفتہ 24 جولائی 2021 16:08
(جاری ہے)
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان دنوں پاکستانی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی آرہی ہے، روپے پر دباو بڑھتا جارہا ہے اگر اس دوران شرح سود میں بھی اضافہ ہوتا ہے تو کاروباری افراد کیلیے مشکلات بڑھ جائیں گیں لہذا مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ کیا جانے کا امکان نہیں ہے۔
مانیٹری پالیسی کا اعلان ہر دو ماہ بعد کیا جاتا ہے جس میں معاشی جائزے کے بعد نئی مانیٹری پالیسی کی منظوری دی جاتی ہے۔ اگلی مانیٹری پالیسی کا اعلان رواں مالی سال 20 ستمبر کو ہوگا، اس کے بعد 26 نومبر کو آخری مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔تجزیہ کار عدنان سمیع شیخ کے مطابق کرونا وبا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث کاروبار بند ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے جس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونگے، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سود کی شرح 7 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہے۔واضح رہے مارچ 2020 میں شرح سود 13.25 فیصد کی بلند سطح پر تھی۔ کرونا کی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے شرح سود مارچ 2020 میں 75 پیسے کم کرکے 12.50 فیصد اور اپریل میں 3.50 فیصد کم کر کے 9 فیصد کردی گئی تھی۔ بعد ازاں گزشتہ سال جون میں کرونا کیسز کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود کو مزید کم کرکے 7 فیصد تک کردیا گیا تھا۔ اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے پچھلی 5 ماینٹری پالیسیوں میں بھی معیشت کی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شرح سود میں اضافہ نہیں کیا۔مانیٹری پالیسی میں مرکزی بینک شرح سود کو بڑھانے یا کم کرنے کا تعین کرتا ہے۔جب شرح سود میں اضافہ کیا جاتا ہے تو کاروباری افراد کو زیادہ شرح سود پر کاروبار کیلیے بینکوں سے قرضے لینے پڑتے ہیں، شرح سود زیادہ ہونے کے باعث لوگ کم قرضے لیتے ہیں جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے اور معیشت میں بحران پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ شرح سود میں کمی کی صورت میں لوگوں کو بینکوں سے سستے قرضے ملتے ہیں اور کاروباری افراد زیادہ سے زیادہ قرضے حاصل کرتے ہیں، کاروباری سرگرمیاں بڑھنے سے روزگار کے مواقعے پیدا ہوتے ہیں اور لوگوں کی اشیا کو خریدنے کی قوتِ خرید بڑھتی ہے، طلب میں اضافے کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی بڑھتی ہے۔متعلقہ عنوان :
مزید اہم خبریں
-
لبنان: جنگ بندی لیکن خوراک لوگوں کی پہنچ سے پھر بھی دور، یو این ادارہ
-
ملیریا ویکسین بچوں کی زندگیاں بچانے میں کامیاب، عالمی ادارہ صحت
-
ہنٹا وائرس کے وسیع پھیلاؤ کا امکان انتہائی کم، ڈبلیو ایچ او
-
یوکرین: جنگ کے آغاز سے لیکر اب تک نظام صحت پر 3,000 حملے
-
صومالیہ: غذائی قلت سے 20 فیصد لوگوں کو قحط کا سامنا، ڈبلیو ایف پی
-
چیمپئن آف ارتھ ایٹنبرا کو 100 سالہ ہونے پر یو این کی مبارکباد
-
صدرٹرمپ دورہ چین سے پہلے معاہدہ چاہتے ہیں کیونکہ جنگ جاری رہی تو ان کی پوزیشن کمزور رہے گی
-
حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرا دیا
-
کراچی کی تباہی کی ذمہ دار صرف پیپلزپارٹی نہیں بلکہ وہ قوتیں بھی ہیں جنہوں نے کرپٹ اور نااہل لوگوں کو عوام پر مسلط کیا
-
خیبرپختونخوا میں دو مختلف کارروائیوں کے دوران پانچ خوارج ہلاک
-
ہم نے گزشتہ رات کی جارحیت ناکام بنائی، دشمن پسپا ہوا، اسماعیل بقائی
-
راولپنڈی میں قتل کی لرزہ خیز واردات
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.