Live Updates

افغان سفیر کی صاحبزادی سلسلہ تعلیم کے سلسلے میں بیرون ملک روانہ

افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل نے ٹویٹر پر بیٹی کے ساتھ تصویر شئیر کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر 2 اگست 2021 12:07

افغان سفیر کی صاحبزادی سلسلہ تعلیم کے سلسلے میں بیرون ملک روانہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 اگست 2021ء) : پاکستان میں موجود افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی صاحبزادی سلسلہ تعلیم کے سلسلے میں بیرون ملک روانہ ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل نے اپنی صاحبزادی سلسلہ کے ساتھ تصویر شئیر کی اور کہا کہ اسلام آباد میں حالیہ اغوا کے بعد ایک اُداس الوداع۔

افغان سفیر کا کہنا تھا کہ سلسلہ اپنا ماسٹر ڈبل ڈگری پروگرام مکمل کرنے کے لیے بیرون ملک روانہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کے اغوا کے واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سلسلہ کے اغوا کا واقعہ افغانیوں کی چالیس سالہ قربانیوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت قوم ہمارا عزم مضبوط ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پیغام میں ساتھ دینے والوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ 16 جولائی کو یہ خبر موصول ہوئی تھی کہ اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کو نامعلوم افراد نے اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ افغانستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی سلسلہ علی خیل کو 16 جولائی کو نامعلوم افراد نے کئی گھنٹوں تک اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔

افغان وزات خارجہ نے بتایا کہ 27 سالہ سلسلہ اس وقت اسلام آباد کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اس واقعہ پر پولیس کو ریکارڈ کروائے گئے اپنے بیان میں افغان سفیر کی بیٹی نے کہا کہ ٹیکسی میں ساتھ بیٹھے ایک شخص نے مجھے مارا پیٹا جس کے بعد میں خوفزدہ ہو کر بے ہوش ہوگئی ۔ تاہم انہوں نے بیان میں راولپنڈی یا اسلام آباد میں کسی مقام کا ذکر نہیں کیا ۔

افغان سفیر کی بیٹی نے پولیس کو دئے گئے بیان میں کہا کہ میں اپنے بھائی کے لیے تحفہ لینے گھر سے تنہا پیدل گئی اور ایک ٹیکسی والے نے کہا کہ اسے دکان کا پتا ہے اور مجھے لے جاسکتا ہے۔ جس پر میں رضا مند ہوگئی۔ ’تحفہ خریدنے کے بعد میں (واپسی کے لیے) ٹیکسی ڈھونڈ رہی تھی۔ ایک ٹیکسی میرے سامنے رُکی، میں اس میں بیٹھ گئی۔ قریب پانچ منٹ چلنے کے بعد یہ ٹیکسی رکی اور ایک مزید شخص کو بٹھا لیا۔

‘ انہوں نے کہا کہ میرینجانب سے شکایت کرنے پر اس شخص نے مجھ پر تشدد دیا اور میرے والد کا ذکر کرتے ہوئے مجھے دھمکیاں دیں۔ ’میں اتنی ڈر گئی تھی کہ میں بے ہوش ہو گئی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی آنکھ جب کھلی تو میں گندگی کے ڈھیر میں لیٹی ہوئی تھی مگر میں سڑک دیکھ سکتی تھی۔ ’گھر پر ملازمین تھے اس لیے مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کہاں جاؤں۔

میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ مجھے ایسی حالت میں دیکھیں۔ تو میں نے ایک ٹیکسی سے کہا کہ مجھے (ایف نائن) پارک لے جائے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ ایف نائن پارک سے میں نے اپنے والد کے ایک ساتھی کو بلایا اور وہ مجھے گھر لے گئے۔ ابتدائی طور پر واقعہ کو اسلام آباد تک محدود سمجھا جا رہا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو واقعے کی اولین ترجیح کے طور پر تحقیقات کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

شیخ رشید نے بتایا کہ نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کی درخواست پر وفاقی دارلحکومت کی پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 365، 354، 506 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں نامعلوم ملزمان پر اغوا، خاتون پر تشدد اور دھمکی آمیز رویے کی تحقیقات جاری ہیں۔ 18 جولائی کو افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے معاملے پر افغان صدر نے اسلام آباد سے تمام سفارتی عملہ واپس بلا لیا تھا۔

افغان میڈیا چینل نے افغان صدر مملکت کے مشیر وحید عمر کے بیان کا حوالہ دے کر دعویٰ کیا تھا کہ افغان صدر اشرف غنی نے اسلام آباد سے اپنے تمام سفارت کاروں کو ملک واپس بلا لیا ۔ 20 جولائی کو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی کا کیس حکومت لڑے گی لیکن ایک کیس کی بنیاد پر افغان سفیر کو نہیں جانا چاہئیے تھا، چاہتے ہیں افغان سفیر خود تحقیقات کا حصہ بنیں، ہم نے واقعے کی ایف آئی آر خود درج کی۔

ہم نے افغان سفیرکی بیٹی سے متعلق فوٹیجز وزارت خارجہ کو دی ہیں، افغان سفیر کی بیٹی نے پورے سفر کے دوران انٹرنیٹ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں افغان سفیرکی بیٹی مبینہ اغوا کیس کی تحقیقات کے لیے تعاون کریں، کیس حکومت لڑے گی۔ ہم نے ان کے اغوا کی ایف آئی آر کاٹی ہے، وہ چلی گئی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی تحقیقات کا حصہ بنے۔

وزیرداخلہ شیخ رشید نے بتایا کہ اسلام آباد راولپنڈی کی700 گھنٹے کی ویڈیو کو دیکھا گیا ہے۔ 200 گاڑیوں اور ٹیکسیوں کے مالکان تک پہنچے ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ چاروں ٹیکسی ڈرائیور بے گناہ ہیں۔افغان سفیر کی بیٹی سے متعلق چاروں ٹیکسی مالکان تک پہنچے ، چاروں ٹیکسی ڈرائیور محنت کش مزدور ہیں۔ ایک کیس کی بنیاد پر افغان سفیر کو نہیں جانا چاہئیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل اپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان چھوڑ کر ترکی اور دیگر عملہ افغانستان جا چکا ہے۔ سینئیر سفارتی عملہ پی آئی اے کی پرواز سے 11بج کر10منٹ پر وطن واپس روانہ ہوا۔ افغانستان سفارتخانہ کے سٹاف مبرز اسلام آباد سے پشاور کے راستے طور خم گئے۔ گزشتہ دنوں افغان صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ افغان سفیر کی بیٹی کے مؤقف اور تحقیقات میں سامنے آنے والی باتوں میں ہم آہنگی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغان سفیرکی بیٹی سے متعلق سیف سٹی کیمروں کی تفصیل موجود ہے، جس ٹیکسی پرسفیرکی بیٹی نے سفر کیا اس ٹیکسی اور ڈرائیور کی معلومات موجود ہیں لیکن افغان سفیرکی بیٹی کے مؤقف،کیمرہ فوٹیج اور ٹیکسی ڈرائیورکے بیان میں ہم آہنگی نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ سفیرکی بیٹی کے مطابق انہیں ٹیکسی میں ڈال کر اغوا کیا گیا اور تشدد کیا گیا جب کہ کیمرے کی فوٹیج کے مطابق افغان سفیرکی بیٹی ٹیکسی میں خود آرام سے بیٹھی ہیں، پولیس نے ٹیکسی ڈرائیورسے تفتیش کی اور تمام ریکارڈ پولیس کے پاس موجود ہے، تفتیش اور افغان سفیر کی بیٹی کے مؤقف میں تضاد ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے افغان سفیر واپس چلے گئے ہیں اور اب تصدیق کیلئے ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں، افغانستان سے ایک ٹیم آرہی ہے ہم انہیں تمام معلومات فراہم کریں گے۔ جبکہ دو روز قبل وزیراعظم عمران خان کا افغان سفیر کی بیٹی پر تشدد کیس سے متعلق معلومات افغانستان کو فراہم کرنے کافیصلہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی کے کیس کو ایسے دیکھا جیسے میری بیٹی ہو۔آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیس میں پولیس نے کئی گھنٹے کی فوٹیج دیکھی، ٹیکسی ڈرائیورز کو ڈھونڈ نکالا، افغان ہمارے بھائی ہیں، کیس میں انصاف ہو گا۔
Live کابل میں طالبان کا کنٹرول سے متعلق تازہ ترین معلومات