ڈیزاسٹر ریسک مینجمنٹ سوسائٹی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام انٹرنیشنل ڈے فار ڈیزاسٹر ریسک ریڈکشن کو خصوصی طور پہ منایا گیا

Usama Chaudhry اسامہ چوہدری بدھ 13 اکتوبر 2021 18:15

ڈیزاسٹر ریسک مینجمنٹ سوسائٹی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 اکتوبر2021ء) ڈیزاسٹر ریسک مینجمنٹ سوسائٹی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی جانب سے جی سی یونیورسٹی لاہور کے نئے کیمپس کالا شاہ کاکو میں نیشنل ریزیلینس ڈے (8th October) اور انٹرنیشنل ڈے فار ڈیزاسٹر ریسک ریڈکشن (13th October) کے موقع پر قدرتی آفات و حادثات کی وجوہات، کمی، اور نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لیے لوگوں میں آگاہی وشعور پیدا کرنے کے حوالے سے سمینار کا اہتمام کیا گیا، جس میں نثار ثانی (دائریکٹر آپریشن، پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) نے بطور مہمان خصوصی، ڈاکٹر شکیل محمود (چیرمین شعبہ جغرافیہ جی سی یو لاہور ) راؤ ذکا (ہیڈ وولنٹئیرز اینڈ یوتھ افئیرز، ہلال احمر پنجاب) نے وفد سمیت خصوصی شرکت کی۔


سمینار کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول سے کیا گیا، بعد ازاں شعبہ جغرافیہ کے طالب علموں کی جانب سے مختلف موضوعات پر شرکا کو اپنی ریسرچ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

(جاری ہے)


اس موقع پر مہمان خصوصی نثار ثانی نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آفت کبھی بھی اور کہیں بھی آسکتی ہے ہمیں اس کے لیے مکمل تیار ہونا چاہیے، گھر میں بیٹھے بھی اچانک کبھی کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے جس سے محفوظ رہنے اور نقصان سے بچنے کے لیے سب سے پہلی چیز آگاہی و شعور کا ہونا بے حد ضروری ہے، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور نے ہمیشہ اپنی روایات کو برقرار رکھا ہے اور شعبہ جغرافیہ جی سی یو لاہور کی جانب سے ہمیشہ کی طرح آج کا دن خصوصی طور پہ منانے اور بچوں میں آگاہی دلوانے پہ مجھے بے حد خوشی ہوئی۔


ہلال احمر پنجاب کے راؤ ذکا نے بتایا کہ مختصر وسائل کے ساتھ قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے نقصانات میں کمی لانے اور لوگوں کو محفوظ کرنے کے لیے خصوصی ٹریننگنز کے ساتھ ساتھ تربیتی پروگرامز کے ذریعے وولنٹئیرز کو شعور دلوایا جاتا ہے۔
چئیرمین شعبہ جغرافیہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور ڈاکٹر شکیل محمود نے طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا شمار قدرتی آفات کی زیادہ زد میں آنے والے ممالک میں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ہم کبھی بھی مکمل طور پہ قدرتی آفات و حادثات کے لیے تیار نظر نہیں آئے اسی وجہ سے ہر آنے والی آفت کا نقصان پچھلی دفعہ سے زیادہ ہوتا ہے، ہمیں قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کرنے اور اپنے اردگرد کے لوگوں میں اس حوالے سے شعور پیدا کرنے کے لیے انفرادی سطح پہ کردار ادا کرنا چاہیے۔


سمینار کے آخر میں شعبہ جغرافیہ کے ہیڈ کی جانب سے مہمانوں کو خصوصی شیلڈ بھی پیش کی گئیں۔