رواں سال2021 میں مہنگائی بڑھ کر11.5 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گئی

پٹرولیم مصنوعات، زرعی اجناس کی قیمتوں، ڈالر کی قدر میں اضافہ، اقتصادی پالیسیاں مہنگائی میں اضافے کے عوامل ہیں، جنوری میں سالانہ 5 فیصد مہنگائی کی شرح نومبر میں11.5 فیصد ریکارڈ کی گئی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 28 دسمبر 2021 21:48

رواں سال2021 میں مہنگائی بڑھ کر11.5 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گئی
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 دسمبر2021ء) ملک میں رواں سال2021 میں مہنگائی بڑھ کر11.5 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گئی، پٹرولیم مصنوعات، زرعی اجناس کی قیمتوں، ڈالر کی قدر میں اضافہ، اقتصادی پالیسیاں مہنگائی میں اضافے کے عوامل ہیں، جنوری میں سالانہ 5 فیصد سے شروع ہونے والی مہنگائی اکتوبر میں 9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ نجی ٹی وی 24 نیوز کے مطابق آفیشل کنزیومر پرائس انڈیکس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال نومبر 2021 میں مہنگائی بڑھ کر11.5 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے، جنوری2021 میں مہنگائی کا سلسلہ 5 فیصد سے شروع ہوا اور افراط زر میں اضافہ ہونے کے ساتھ نومبر2021 میں 20 ماہ کی بلند ترین سطح 11.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات، زرعی اجناس کی قیمتوں، ڈالر کی قدر میں اضافہ، اقتصادی پالیسیاں مہنگائی میں اضافے کے عوامل ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری میں مہنگائی سالانہ 5 فیصد، فروری میں8 فیصد، مارچ میں 9 فیصد، اپریل میں11 فیصد، مئی میں10 فیصد، جون میں9 فیصد، جولائی اور اگست میں 8 فیصد، ستمبر اور اکتوبرمیں 9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ افراط زر بڑھنے سے نومبر میں مہنگائی بڑھ کر11.5 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گئی۔

دوسری جانب نجی ٹی وی دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق منی بجٹ کا مسودہ کل کابینہ کے خصوصی اجلاس میں پیش کیا جائے گا،وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ مسودے کو منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ منی بجٹ میں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط شامل ہیں، منی بجٹ میں بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ منی بجٹ میں 1700سے زائد اشیاء پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں اضافہ کیا جائے گا۔

تمام امپورٹڈ اور لگژری اشیاء ُ رٹیکسز بڑھائے جائیں ھے، پرتعیش اشیا ء پر ٹیکسز میں اضافہ ہوگا،بچوں کے امپورٹڈ ڈائپر ز مہنگے ہوں ،امپورٹڈ اور مقامی گاڑیوں کے ٹیکسز میں اضافہ کیا جائے گا، ٹریکٹر پر عائد سیلز ٹیکس میں 5فیصد اضافے کا امکان ہے،مختلف اشیاء پر سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔ مختلف اقسام کی اشیاء پر ٹیکسز کی شرح 5سے 7فیصد ہوگی، خواتین کے میک اپ کا سامان مہنگا ہوجائے گا، امپورٹڈ کپڑوں، جوتوں اور پروفیومز پر بھی کسٹم ڈیوٹیز بڑھائی جائیں گے۔

گاڑیوں میں ایکسائز فیڈرل ڈیوٹی میں 2.5 فیصد اضافے کا امکان ہے، ترقیاتی بجٹ میں 50ارب کٹوتی کی جائے گی۔ٹیکس وصولی کا ہدف 5ہزار 829سے 6ہزار 100ارب کیے جانے کا امکان ہے۔مجموعی طور پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں اضافے سے 340ارب روپے اضافہ آمدن ہوگی۔ بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کاچھٹا جائزہ اجلاس 12جنوری کو ہوگا،اجلاس میں منظورشدہ منی بجٹ کا بل پیش کیا جانا لازمی ہے، آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے پر ایک ارب ڈالر کی قسط دی جائے گی،آئی ایم ایف نے 2019میں 6ارب ڈالرقرض پیکج کی منظوری دی تھی،پاکستان اب تک 2ارب ڈالر قرض کی اقساط وصول کرچکا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خودمختاری بھی شامل ہے۔