Live Updates

عید کی خوشیوں میںغرباء ومساکین کو شامل کرنے کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا ،مو لا نا عبد الر حمن ر فیق

عیدکے موقع پر غزہ فلسطین کے مظلوم عوام کی مالی مددکیلئے جماعت اسلامی الخدمت فائونڈیشن کا ساتھ دیا جائے، امیرجماعت اسلامی بلوچستان

جمعہ 14 جون 2024 22:00

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جون2024ء) امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ عید کی خوشیوں میںغرباء ومساکین کو شامل کرنے کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا عیدکے موقع پر غزہ فلسطین کے مظلوم عوام کی مالی مددکیلئے جماعت اسلامی ،الخدمت فائونڈیشن کا ساتھ دیں ۔غزہ سمیت مظلوموں مسلمانوں کیلئے خصوصی دعائوں کا اہتمام کیاجائے۔

سودی نظام سے ملک کو نجات دلائی جائے جو ملک کی معیشت پر سب سے بڑا بوجھ اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیحکومت نے عام آدمی کی فلاح و بہودپیٹرول ،بجلی سستی کرنے ،روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مہنگائی میں کمی کیلئے کوئی موثر اقدامات نہیںکئے آئی ایم ایف کا24واں پروگرام آخری پروگرام نہیں اس کے بعد بھی آئی ایم ایف کے پاس کشکول لے کر جانا پڑے گا۔

(جاری ہے)

قوم کو آئی ایم ایف کامستقل غلام بنانے والے کسی صورت معاف کرنے کے قابل نہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے اس بجٹ میںعام آدمی کی فلاح و بہود ،پیٹرول ،بجلی سستی کرنے ،روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مہنگائی میں کمی،تعلیم ،صحت اور عوام کوبنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے کوئی موثر اقدامات نہیںکئے بجٹ میںاشرافیہ کے ناجائز مفادات کا تحفظ کیا گیاہے موجودہ بجٹ مہنگائی کو بڑھانے ، صنعت کاری اور معاشی سرگرمیوں میں رکاؤٹ پیدا کرنے کا باعث بنے گاکیونکہ حکومت کا تمام تر زور ٹیکس وصولیوں پر ہے ،انڈسٹری کی بحالی کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جس سے ملک میں بیروزگاری بڑھے گی اور ٹیکس وصولیوں کے اہداف پورے نہیں ہو سکیں گے ٹیکسوں میں غیر مساویانہ طرز عمل ملک کی معیشت کیلئے تباہی اور معاشی اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاؤ ٹ کا باعث بنے گاانہوں نے کہا کہ بجٹ کے خدوخال سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کا 24واں پروگرام آخری پروگرام نہیں ہو گا اس کے بعد بھی آئی ایم ایف کے پاس کشکول لے کر جانا پڑے گاانکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں اضافہ سے ایسا لگتا ہے ملک میں بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور انکم سپورٹ پروگرام ضرورت منددوں کی ضروریات پوری کرنے کی بجائے سیاسی بندبانٹ کی نظر ہو رہا ہے ، سود کی مد میں ادائیگیاں 9775ارب روپے رکھی گئی ہیں جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ سے کھلی جنگ کرتے ہوئے حکومت نے سود نظام کو جاری رکھاہے جس سے معیشت تباہ ،عوام بدحال اورملک قرضوں کی لدل میں دھنستا چلا جارہاہے ملک کو ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کا واحد حل یہ ہے کہ سودی نظام سے ملک کو نجات دلائی جائے جو ملک کی معیشت پر سب سے بڑا بوجھ اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔

Live بجٹ سے متعلق تازہ ترین معلومات