ہم قانون کی بات کررہے ہیں حکومت اس کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائے، مولانا فضل الرحمان

ہم مدارس کی رجسٹریشن چاہتے ہیں ریاست سے تصادم نہیں چاہتے، علما ءکو تقسیم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، قوم کو گمراہ کیا جارہا ،آج اجلاس بلا کر علماءکو تقسیم کرنے کی سازش کی ہے، سربراہ جے یو آئی (ف) کی پریس کانفرنس

Faisal Alvi فیصل علوی پیر 9 دسمبر 2024 17:17

ہم قانون کی بات کررہے ہیں حکومت اس کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائے، مولانا ..
چارسدہ(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 09 دسمبر 2024)جمعیت علماءاسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہم قانون کی بات کررہے ہیں حکومت اس کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائے، ہم مدارس کی رجسٹریشن چاہتے ہیں ریاست سے تصادم نہیں چاہتے،علما ء کو تقسیم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، قوم کو گمراہ کیا جارہا ہے ، چارسدہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی (ف)نے مزید کہا کہ حکومت نے آج اجلاس بلا کر علماء کو تقسیم کرنے کی سازش کی ہے ۔

علما ء کے مقابلے میں علماءکو لایا جا رہا ہے۔ کل ہم اپنا لائحہ عمل دینے جا رہے تھے مفتی تقی عثمانی کے کہنے پر موخر کیا۔ ہم مدارس کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہم مدارس کی رجسٹریشن چاہتے ہیں لیکن ہمیں رجسٹریشن سے دھکیلا جا رہا ہے ۔

(جاری ہے)

تمام چیزیں جب پہلے اتفاق رائے سے ہوئیں تھیں اب اسے کیوں متنازع بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کی تجویز قبول کرنا تو دور کی بات چمٹے سے بھی پکڑنے کو تیار نہیں ۔

اگر انہوں نے ترمیم کرنے کیلئے کچھ بھی دیا تو اسے منظور کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ صدر مملکت دوسرے ایکٹ پر دستخط کرسکتے ہیں تو اس ایکٹ پر دستخط کیوں نہیں کرسکتے ۔سربراہ جمعیت علماءاسلام (ف)مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ جو معاملات طے ہوئے تھے ان پر عمل کیا جا ئے اور نئے شوشے نہ چھوڑیں جائیں۔جو علماءآج اسلام آباد میں جمع ہوئے ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔

ہم ان علما کو بھی اپنی صف کے لوگوں میں شمار کرتے ہیں۔ دینی مدارس کے حقوق کی جنگ تمام مدارس اور علما کیلئے لڑ رہے ہیں۔مدارس کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنے مدارس کی آزادی کی حفاظت کیلئے کوشاں ہیں۔ہماری جماعت مدارس کو محفوظ بنانے اور ان کے حقوق کی حمایت کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گی۔سربراہ جے یو آئی (ف)کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے 2004 میں بھی قانون سازی ہوئی تھی، 2019 میں ایک نئے نظام کیلئے محض ایک معاہدہ کیا گیا۔

الیکشن سے قبل پی ڈی ایم کی حکومت میں تمام پارٹیوں نے بل پر اتفاق رائے کیا تھا اور اس کی پہلی خواندگی پر کوئی اختلاف رائے نہیں ہوا۔ دوسری خواندگی میں اداروں نے مداخلت کرکے قانون سازی رکوادی۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے مرحلے کے دوران بل کی منظوری کے حوالے سے بات کی جس سے تمام سٹیک ہولڈرز واقف تھے۔مدارس وزارت تعلیم کے ماتحت کام کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

آج پوری دنیا میں دینی مدارس موجود ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26 ویں ترمیم کی قانون سازی کا معاملہ آیا تو ہم نے شقیں کم کرائیں اور مدارس سے متعلق بل پر تمام سٹیک ہولڈرز متفق ہوئے۔صدر مملکت قانون سازی پر دستخط کر سکتے ہیں تو مدارس بل پر کیوں نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم مدارس کو قانون سے وابستہ کر رہے ہیں۔ ہم قانون کی بات کر رہے ہیں، مدارس کی آزادی اور خود مختاری قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ سوسائٹی ایکٹ کے تحت وزارت صنعت نے مدارس چلانے کا نہیں کہا۔ رجسٹریشن کی بات مانی تو ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ڈائریکٹوریٹ مسلط کر دیا۔