Live Updates

پنجاب میں سیلابی صورتحال پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا

کہہ دیتے ہیں بھارت نے پانی چھوڑا لیکن یہ ہاؤسنگ سوسائٹیز تو آپ نے ہی بنائی ہیں یا یہ بھی بھارت نے بنائیں؟ لوگوں کو محفوظ مقام پر تو آپ نے ہی رکھنا تھا وہ بھارت نے تو نہیں کرنا تھا؛ سینئر صحافی مظہرعباس کا مؤقف

Sajid Ali ساجد علی اتوار 31 اگست 2025 12:25

پنجاب میں سیلابی صورتحال پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 اگست 2025ء ) صوبہ پنجاب میں جاری سیلابی صورتحال پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ یہ کہہ دیتے ہیں جی بھارت نے پانی چھوڑ دیا چلو ٹھیک ہے بھارت نے پانی چھوڑا لیکن یہ ہاؤسنگ سوسائٹیز تو آپ نے ہی بنائی ہیں یا یہ بھی بھارت نے بنائیں؟ یہ جو لوگوں کو محفوظ مقام پر رکھنا تھا اور ایسی جگہوں پر تعمیرات نہیں ہونے دینی تھیں وہ تو آپ نے ہی کرنا تھا وہ بھارت نے تو نہیں کرنا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی کی جوابدہی نہیں کی جاتی، اس حکومت کے وزیر خزانہ بھی کہتے ہیں کہ حکومتیں کاروبار نہیں کرتیں لیکن آپ اٹھا کر دیکھ لیں یہ سوسائیٹیز کن کی ہیں تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ حکومتیں کاروبار کرتی ہیں یا نہیں کرتی ہیں، ہمارے ہاں حکومتیں اداروں کو پرائیویٹائز کرکے بھی کاروبار کرتی ہیں، سچی بات تو یہ ہے کہ ایک یہ بدقسمتی والی صورتحال ہے۔

(جاری ہے)

دوسری طرف صوبہ پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جہاں آئندہ 24 گھنٹوں میں ملتان اور خانیوال سمیت کئی اضلاع متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا گیا، پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائیریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ اس وقت پنجاب سے تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا گزار رہا ہے جس سے اگلے 24 گھنٹوں میں ملتان اور خانیوال سمیت مختلف اضلاع کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس وقت قصور سے دو لاکھ 60 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے اور ہیڈ سلیمانکی سے ایک لاکھ 75 ہزار کیوسک کا ریلہ گزرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ تریموں ہیڈ پر پانی کا بہاؤ 18 گھنٹے لیٹ ہوا ہے اور پیر کی دوپہر 7 لاکھ کیوسک کا ریلہ ہیڈ تریموں سے گزرے گا، اس کے علاوہ ہیڈ محمد والا پر 8 لاکھ کیوسک کا ریلہ متوقع ہے، شیر شاہ برج سے بھی سیلابی ریلہ گزرے گا، ہیڈ اسلام سے 1 لاکھ 35 ہزار کا ریلا گزرے گا، دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر اس وقت پانی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے، اگلے 24 گھنٹوں میں خانیوال کے دیہات سیلاب سے متاثر ہوں گے، دریائے ستلج کا پانی چار اضلاع سے گزرے گا اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں ملتان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے جب کہ دو ستمبر کو دریائے راوی کا پانی دریائے چناب سے ملے گا۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات