حکومت کالج کا ایک کمرہ ایک ایک کروڑ روپے کا بنا رہی ہے، وفاقی وزیر خواجہ آصف کا انکشاف

جو لوگ مستقل بیٹھے ہوئے ہیں اصل لوٹ مار تو یہ کر رہے ہیں جو دہائیوں سے بیٹھے ہوئے ہیں، جن کی 30,35 سال سروس ہے ان کا اندازہ لگائیں ان کا تو میٹر کبھی بند ہی نہیں ہوا؛ ن لیگی رہنماء کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی اتوار 31 اگست 2025 11:58

حکومت کالج کا ایک کمرہ ایک ایک کروڑ روپے کا بنا رہی ہے، وفاقی وزیر خواجہ ..
سیالکوٹ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 اگست 2025ء ) مسلم لیگ ن کے رہنماء وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت سکول کا ایک کمرہ ایک کروڑ روپے کا بنا رہی ہے۔ ایک نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ہمارے علاقے میں جناح اسلامیہ کالج کا ایک ایک کمرہ ایک ایک کروڑ اور 70,80 لاکھ روپے کا بنا رہی ہے جب کہ پرائیویٹ سیکٹر 20لا کھ میں بنا کر دے رہا ہے اور کنسٹرکشن کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔

خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ہم کس کس کا رونا روئیں، اوپر تو تھوڑے بہت جاتے ہیں زیادہ مال یہ بیوروکریسی کھا رہی ہے، ہم سیاستدان تو آنے جانے والے ہیں، 4 سال تک کھاتے پیتے ہیں پھر ہمیں یہ فارغ کردیتے ہیں اور نئے آ جاتے ہیں وہ نئی شروع کردیتے ہیں لیکن جو لوگ مستقل بیٹھے ہوئے ہیں اصل لوٹ مار تو یہ کر رہے ہیں جو دہائیوں سے بیٹھے ہوئے ہیں، جن کی 30,35 سال سروس ہے ان کا اندازہ لگائیں ان کا تو میٹر کبھی بند ہی نہیں ہوا سیاستدانوں کا تو میٹر بند ہوجاتا ہے۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ یہ ایک پراجیکٹ ہے جس کا نام PICIIP ہے، سینکڑوں ڈالر کے ورلڈ بینک کے قرضے پر دو شہروں سیالکوٹ اور ساہیوال میں کئی سال سے کام ہو رہا ہے، کام کی کوالٹی کا آپ اس وڈیو سے اندازہ لگا لیں، یہ سیالکوٹ میں خادم علی روڈ ہے اور اس کے نیچے PICCIP کے ٹھیکدار نے پائپ ڈالے ہیں، اس سے باقی کام کی کوالٹی کا اندازہ لگا سکتے ہیں، شہر کے باہر ڈسپوزل بنی ہے لیکن سسٹم ابھی چالو نہیں، ٹھیکدار طاقتور ہے آپ اندازہ لگا لیں وہ ہماری پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں، دولت کی کوئی انتہا ہی نہیں شاید ہی کسی کا احتساب ہوسکے، میرا حلقہ ہے آواز اٹھانا فرض ہے۔

وزیردفاع کی اس پوسٹ پر سوالات اٹھاتے ہوئے معروف صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ اب ہمارے ملک میں وزیر دفاع سے زیادہ طاقتور اور وہ بھی محض ٹھیکیدار کون ہو سکتا ہے؟ بیچارے غریب اور کمزور لوگ اپنے لاکھوں ووٹ ایک سیاسی جماعت یا اُس کے سیاستدان کو محض آواز اُٹھانے کے لیے دیتے ہیں؟ آوازیں تو اُن کی بھی نکل ہی جاتی ہیں جو اِن کھڈوں میں دھڑام سے گرتے ہیں، فارم پینتالیس کا کوئی رکن اسمبلی تو اتنا بے بس نہیں ہو سکتا۔