سمندروں کا تحفظ پائیدار ترقی کا بنیادی ستون، یو این چیف

یو این پیر 9 جون 2025 19:15

سمندروں کا تحفظ پائیدار ترقی کا بنیادی ستون، یو این چیف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 09 جون 2025ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ سمندر تمام انسانوں کی ترقی و خوشحالی کا مشترکہ ذریعہ ہے لیکن انسانی سرگرمیاں اسے شدید نقصان پہنچا رہی ہیں جسے روکنے کے لیے موسمیاتی، غذائی اور مستحکم مالیاتی نظام میں سمندری تحفظ کو ترجیح دینا ہو گی۔

فرانس کے شہر نیس میں اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے سمندر کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت مند سمندروں کے بغیر صحت مند زمین ممکن نہیں۔

اس وقت دنیا بھر کے سمندروں کو بہت سے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ غیرقانونی اور حد سے زیادہ ماہی گیری کے نتیجے میں مچھلیوں کے ذخائر میں کمی آ رہی ہے، ہر سال 23 ملین ٹن پلاسٹک کا کوڑا سمندروں میں پھینکا جاتا ہے جبکہ کاربن کی آلودگی اور بڑھتی حدت کے نتیجے میں سمندری تیزابیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

Tweet URL

انہوں نے خبردار کیا کہ سطح سمندر میں اضافے سے دریائی ڈیلٹا ختم ہو رہے ہیں، فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، ساحلی علاقے زیر آب آ رہے ہیں اور بہت سے جزائر کی بقا کو خطرہ لاحق ہے۔

یہ ایسے نظام کی علامات ہیں جو شدید بحران سے دوچار ہے جبکہ یہ تمام مسائل ایک دوسرے کو بھی تقویت دے رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ فطری کے علاوہ مجرمانہ قوتوں سے بھی سمندروں کو نقصان ہو رہا ہے۔ قزاقی، منظم جرائم، انسانی سمگلنگ اور قدرتی آبی وسائل کی لوٹ مار سے لوگوں کی زندگیوں اور ترقی کو خطرہ ہے جبکہ ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگ اپنے حقوق سے محروم ہو رہے ہیں۔

کثیرالفریقی طریقہ کار کی افادیت

سیکرٹری جنرل نے پرتگال کے شہر لزبن میں گزشتہ کانفرنس کے بعد ہونے والی مثبت پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے عالمگیر حیاتیاتی تحفظ کے لیے کُنمنگ۔مانٹریال فریم ورک اور اس مقصد کے لیے طے پانے والے ماورائے سرحد معاہدے کا حوالہ دیا۔

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ یہ فریم ورک اور معاہدہ کثیرفریقی طریقہ کار کی افادیت کا اظہار ہے لیکن وعدوں پر عملدرآمد کے بغیر مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

اس کے لیے عالمگیر اہداف سے ہم آہنگ ٹھوس قومی منصوبوں کی ضرورت ہے اور ماہی گیر برادریوں، قدیمی مقامی لوگوں، سائنس دانوں اور نوجوانوں کو بااختیار بنایا جانا ضروری ہے۔

انہوں نے پائیدار ترقی کے 14ویں ہدف (زیرآب زندگی) پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے سب سےکم وسائل مہیا ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کو تبدیل ہونا چاہیے۔ سمندری ماحول کو تحفظ دینے کے لیے حکومتوں کو بڑے پیمانے پر مالی وسائل فراہم کرنا ہوں گے، ترقیاتی بینکوں سے مدد لینا ہو گی اور نجی سرمایے کے حصول کا اہتمام کرنا ہو گا اور اس حوالے سے تمام ممالک دلیرانہ اور ٹھوس وعدے کریں۔

تبدیلی کی امید

سیکرٹری جنرل نے سمندری سلامتی کو پائیدار ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک سمندر کے اندر کان کنی کے نئے منصوبے شروع کر رہے ہیں اور اس ضمن میں وہ سمندری تہہ سے متعلق بین الاقوامی ادارے کے کام کی حمایت کرتے ہیں۔ دنیا کے پاس سمندری وسائل کی فراوانی کو بحال کرنے کا موقع ہے۔ انسان نے ایک نسل کے عرصہ میں جو کچھ کھویا ہے وہ دوسری نسل میں واپس لیا جا سکتا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے امید ظاہر کی کہ دنیا اس صورتحال کو تبدیل کر سکتی ہے اور لوٹ مار سے تحفظ، اخراج سے مساوات اور وسائل کے مختصر مدتی استحصال سے طویل مدتی تحفظ کی جانب مراجعت ممکن ہے۔

فرانس اور کوسٹاریکا اس کانفرنس کی مشترکہ میزبانی کر رہے ہیں جو 13 جون تک جاری رہے گی۔