پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ اقتصادی و سرمایہ کاری شراکت داری کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے، وفاقی وزیرخزانہ سینیٹرمحمد اورنگزیب کی یو اے ای کے ممتازسرمایہ کاروں اور تاجروں کے وفد سے گفتگو

جمعہ 29 اگست 2025 21:43

پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ اقتصادی و سرمایہ کاری شراکت داری کو ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ اقتصادی و سرمایہ کاری شراکت داری کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے، یو اے ای کے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کےلئے پرعزم ہیں، کان کنی کے شعبے خصوصاً ریکو ڈک پراجیکٹ میں شاندار مواقع موجود ہیں، ، ٹیرف اصلاحات اور ڈیجیٹل و ایکسپورٹ پروموشن پالیسیز حکومت کے آئندہ اصلاحاتی ایجنڈے کی عکاس ہیں۔

وزیرخزانہ نے ان خیالات کااظہارجمعہ کویہاں ابو ظہبی میں قائم عالمی سرمایہ کاریو سٹریٹجک ایڈوائزری خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ای آئی ایکس کے گروپ چیف انفارمیشن آفیسر محمد برادی کی قیادت میں یو اے ای کے ممتازسرمایہ کاروں اور تاجروں کے وفد سے ملاقات میں کیا۔

(جاری ہے)

وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ان کے پاکستان کے دورے کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ حکومت اہلکاروں، نجی شعبے کے نمائندوں اور مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ان کی ملاقاتوں نے ملک میں سرمایہ کاری کی صلاحیتوں کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کی ہوگی۔

وزیر خزانہ نے وفد کو پاکستان کی معیشت اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران کی جانے والی وسیع پیمانے پر ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام معاشی اشاریوں میں مثبت پیش رفت کا تسلسل برقرار ہے، کئی برسوں کے بعد حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن فاضل ہوگیا، افراط زرسنگل ڈیجیٹ ہے، ملکی کرنسی اورزرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہے، بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی طرف سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آئی ہے جس سے ملکی معیشت پربیرونی اعتمادکی عکاسی ہورہی ہے۔

انہوں نے برآمدات اور ترسیلات زر کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تجارت اورسرمایہ کاری کی سرگرمیاں اورتیزی بے مثال ہے، 70 ہزار سے زائد نئے سرمایہ کاروں کی شمولیت نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔وزیرخزانہ نے سرمایہ کاروں کے خدشات دور کرنے کے لیے حکومت کے عزم پر زور دیا اور کہا کہ ٹیکس اصلاحات، ٹیرف میں کمی، سرکاری اداروں کی نجکاری اور دیگر جرأت مندانہ ڈھانچہ جاتی اقدامات معیشت کی ساخت کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کان کنی کے شعبے، خصوصاً ریکو ڈک پراجیکٹ میں شاندار مواقع موجود ہیں، جو پائیدار غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے بیرونی شعبے کو مضبوط کرے گا۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے جلد سامنے آنے والی نئی صنعتی پالیسی کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ٹیرف اصلاحات اور ڈیجیٹل و ایکسپورٹ پروموشن پالیسیز حکومت کے آئندہ اصلاحاتی ایجنڈے کی عکاس ہیں۔

وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ ٹیکس نیٹ کو مینوفیکچرنگ اور تنخواہ دار طبقے سے آگے بڑھا کر خدمات، ہول سیل، ریٹیل اور زرعی شعبے تک پھیلایا جا رہا ہے، جبکہ کاروبار کے لیے توانائی اور فنانسنگ لاگت کم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے نجکاری کے جاری عمل پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں پی آئی اے اور دیگر ریاستی اثاثوں کی بڑی ڈیلز آگے بڑھائی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان پہلی بار پانڈا بانڈ کے اجراء کے ذریعے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ مستقبل میں یورو اور امریکی ڈالر بانڈز کے اجرا بھی منصوبے کا حصہ ہیں تاکہ ذخائر مزید مستحکم کیے جا سکیں۔ ماحولیاتی وموسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان کی حساسیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمیاتی لحاظ سے موزوں منصوبے ناگزیر ہیں اور اس مقصد کے لیے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک جیسے اداروں سے مالی معاونت دستیاب ہے لیکن اس کے لیے قابلِ سرمایہ کاری اور بینک ایبل منصوبے ضروری ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی کا راستہ سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی نمو میں ہے جس میں غیر ملکی سرمایہ کار خصوصاً متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کار، مقامی کاروبار کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کی سرمایہ کاری میں بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔یو اے ای کے وفد نے بھی خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا اور پاکستان میں پرتپاک استقبال اور مثبت و تعمیری ملاقاتوں پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے پاکستان کی معیشت کے مثبت رجحان، ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں پیش رفت اور کلیدی شعبوں کی لچک کو سراہا۔ وفد نے پاکستان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ، نوجوان آبادی کے فوائد اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے مواقع بے پناہ امکانات رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف سرمایہ ہی نہیں بلکہ سٹریٹجک مہارت بھی ساتھ لائے ہیں اور پاکستان میں اصلاحات کے سفر میں سب سے آگے رہنے کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان سرمایہ اور افرادی قوت کے بڑھتے ہوئے تبادلے سے معاشی تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور دونوں ممالک باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے ذریعے ایک ساتھ ترقی کریں گے۔ وزیر خزانہ نے اعادہ کیا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ اقتصادی و سرمایہ کاری شراکت داری کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور یو اے ای کے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر اعتماد ظاہر کیا کہ اس ملاقات سے پیدا ہونے والی مثبت رفتار جلد ٹھوس سرمایہ کاریوں اور مشترکہ منصوبوں میں ڈھلے گی، جس سے دونوں برادر ممالک کے درمیان معاشی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔