لیویز فورس کا خاتمہ عوام کے بنیادی حقوق پر حملہ تصور کیا جائے گا،پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی

پیر 4 اگست 2025 21:35

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 اگست2025ء) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں صوبائی حکومت کی جانب سے صوبے کے پشتون و بلوچ اکثریتی اضلاع میں لیویز فورس کے خاتمے اور اسے پولیس میں ضم کرنے کے اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی نے اس اقدام کو ریاستی اداروں کی پشت پناہی سے نافذ کردہ ایک غیر جمہوری، غیر آئینی اور عوام دشمن فیصلہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد مقامی عوام کی روایتی اور مؤثر سیکیورٹی فورس کو کمزور کرنا اور مرکزی کنٹرول مسلط کرنا ہے۔

پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ ژوب ڈویژن کے اضلاع، جن میں شیرانی، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور دیگر پشتون علاقے شامل ہیں، وہاں لیویز فورس کو ہائی کورٹ کے واضح اسٹے آرڈر کے باوجود مرحلہ وار پولیس فورس میں ضم کرنے کا عمل جاری ہے، جو نہ صرف عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ آئین و قانون کی بھی سنگین پامالی ہے۔

(جاری ہے)

پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے یاد دلایا کہ ماضی میں سینیٹر مشاہد حسین سید کی سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی نے اپنے فیصلے میں یہ طے کیا تھا کہ لیویز فورس کو کسی صورت پولیس میں ضم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے جدید تربیت اور وسائل فراہم کر کے اسے ایک باوقار، خودمختار اور مؤثر امن و امان کی فورس کے طور پر ترقی دی جائے گی۔

پارٹی نے اس تناظر میں موجودہ حکومت کے اقدامات کو ماضی کے متفقہ فیصلوں سے انحراف اور عوام کے اعتماد سے کھلا دھوکہ قرار دیا ہے۔پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ لیویز فورس نہ صرف مقامی سطح پر مؤثر طریقے سے سیکیورٹی کی خدمات انجام دے رہی ہے بلکہ یہ فورس مقامی روایات، جغرافیہ، اور عوامی مسائل سے واقفیت کے باعث عوام کی پسندیدہ اور قابل اعتماد ادارہ ہے۔

اس فورس کا خاتمہ عوام کے بنیادی حقوق پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پشتون و بلوچ اضلاع میں لیویز فورس سے تعلق رکھنے والے اہلکار، مقامی قبائلی عمائدین اور عوام مسلسل احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عوام اس فیصلے کو مسترد کر چکے ہیں۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے تمام جمہوری، سیاسی، سماجی اور قوم دوست جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس غیر آئینی، غیر منصفانہ اور عوام دشمن فیصلے کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں اور ایک مؤثر احتجاجی تحریک کا آغاز کریں تاکہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے سے روکا جا سکے۔

پارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر فورم پر اس زیادتی کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی صورت لیویز فورس کے خاتمے کو تسلیم نہیں کرے گی۔پریس ریلیز کے آخر میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت فوری طور پر اس عمل کو روکے، عدالتی احکامات کا احترام کرے، لیویز فورس کو بحال رکھے، اور اسے مزید مستحکم و جدید بنایا جائے تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر طریقے سے برقرار رکھا جا سکے۔