قومی اسمبلی میں سوشل میڈیا پر بلااجازت تصاویر ،ویڈیوز اور غیر اخلاقی مواد پھیلانے کی روک تھام کی قرارداد منظور

بدھ 6 اگست 2025 19:59

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اگست2025ء) قومی اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد اور خواتین کی بلااجازت تصویروں اور ویڈیوز کو پھیلانے کی مذمت کرتے ہوئے وقار اور پرائیویسی کے حق کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ قرارداد سیدہ نوشین افتخار نے پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان میں تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے، اس میں وقار، زندگی، پرائیویسی اور ہراسگی کا حق بھی شامل ہے اور قوانین میں بھی ان حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے، لوگوں بالخصوص خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کو بغیر اجازت بنانا اور پھیلانا، موبائل ڈیوائسز، سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور قوانین پر عملدرآمد میں کمزوری کے باعث خطرناک صورتحال اختیار کر چکا ہے، یہ آئین و قانون کی واضح خلاف ورزی ہے، ان تصاویر کو بلیک میلنگ، ہراسمنٹ، ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، ان وجوہات کی بناء پر عوامی مقامات پر خواتین کیلئے عدم تحفظ پیدا ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

پیمرا ایکٹ 2016ء سمیت کئی قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کم ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ تحقیقات اور سزائوں میں تاخیر سے صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے، یہ ایوان افراد بالخصوص خواتین کی غیر قانونی ریکارڈنگز اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتا ہے کیونکہ یہ اسلامی اور مہذب معاشروں کی اقدار کے خلاف ہے، ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وقار اور پرائیویسی کے حق کا تحفظ کیا جائے اور وفاقی حکومت پیکا ایکٹ سمیت اس حوالہ سے دیگر قانونی اقدامات کو مزید مستحکم کرے۔ بعد ازاں ایوان نے یہ قرارداد منظور کر لی۔