انسداد دہشت گردی ایکٹ کی منظوری آئین ، جمہوریت کے چہرے پر ’’زوردار طمانچہ‘‘ ہے ، حافظ حمد اللہ

ّیہ قانون دراصل ایک ’’بلیک لاء ہے جسے وہ انگریز دور کے بدنام زمانہ رولٹ ایکٹ کے مترادف قرار دیتے ہیں، اسی رولٹ ایکٹ کی مخالفت میں قائداعظم محمد علی جناح نے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا، رہنما جمعیت علمائے اسلام

منگل 19 اگست 2025 20:52

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 اگست2025ء) جمعیت علمائ اسلام کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی منظوری کو آئین اور جمہوریت کے چہرے پر ’’زوردار طمانچہ‘‘ قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں حافظ حمداللہ نے کہا کہ یہ قانون دراصل ایک ’’بلیک لاء ہے جسے وہ انگریز دور کے بدنام زمانہ رولٹ ایکٹ کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے یاد دلایا کہ اسی رولٹ ایکٹ کی مخالفت میں قائداعظم محمد علی جناح نے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔جے یو آئی رہنما نے سوال اٹھایا کہ ’’25 دسمبر کو یہی حکومتی جماعتیں اور ان کے سہولت کار کس منہ سے قائداعظم کی یومِ ولادت منائیں گی نہ کوئی شرم ہے نہ حیا۔‘‘حافظ حمداللہ کا مزید کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کا یہ قانون نہ صرف قائداعظم کے نظریات کے خلاف ہے بلکہ آئین کی روح سے بھی متصادم ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علمائ اسلام اس سیاہ قانون کو پہلے بھی مسترد کر چکی ہے اور آئندہ بھی مسترد کرتی رہے گی۔