بڑی مالیت کی ادائیگیوں کے انفرااسٹرکچر کو مضبوط اورجدید بنانے کیلئے پرزم پلس کا افتتاح کردیا گیا

منگل 19 اگست 2025 21:33

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 اگست2025ء)سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے بڑی مالیت کی ادائیگیوں کے انفرااسٹرکچر کو مضبوط اور جدید بنانے کیلئے پرزم پلس کا افتتاح کر دیا۔مرکزی بینک کے اعلامیہ کے مطابق ریئل ٹائم انٹربینک سیٹلمنٹ میکینزم پلس (پرزم پلس) ملک کے فنانشل مارکیٹ انفرااسٹرکچر کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس میں منعقدہ تقریب میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پرزم پلس کا افتتاح کیا، تقریب میں بینکوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز ، مائیکروفنانس اداروں، پیمنٹ سسٹم آپریٹرز، پیمنٹ سسٹم پرووائیڈرز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ پرزم پلس سٹیٹ بینک کے وژن 2028ء کے تحت ڈیجیٹل فنانشل انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے عزم کا عکاس ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پرزم پلس کے ساتھ پاکستان ان چند ممالک کی صف میں آگیا ہے، جہاں ریٹیل اور بڑی ادائیگیوں کیلئے آئی ایس او 20022 عالمی میسجنگ اسٹینڈرڈ اپنایا گیا ہے، پرزم پلس پہلے سے بہتر فعالیت، اسٹرکچرڈ فنانشل میسجنگ ، موثر انٹرآپریبلٹی اور شفافیت کا حامل ہے۔گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ پرزم پلس کے جدید فیچرز میں رئیل ٹائم لیکویڈٹی منیجمنٹ ٹولز ، ٹرانزیکشنز کی قطار اور ترجیح سازی ، مستقبل کی تاریخ پر ادائیگی کی سہولت شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ پرزم پلس نیلامیوں، ریپوز اور مانیٹری آپریشنز کیلئے سینٹرل سکیورٹیز ڈپازیٹری کے ساتھ بلا رکاوٹ انضمام جیسی سہولت بھی فراہم کرتا ہے، پرزم نے مالی سال 24ء میں 1043 کھرب روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز پروسیس کیں، جو پاکستان کے جی ڈی پی کا 10 گنٴْا ہے۔جمیل احمد نے کہاکہ پرزم پلس کے ساتھ ہم اس نظام کی استعداد اور کارکردگی بڑھا رہے ہیں تاکہ مالی مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جاسکے، پاکستان میں ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس وقت پاکستان میں 22 کروڑ سے زائد بینک اور ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹس موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینکنگ ایپس کے رجسٹرڈ صارفین کی تعداد 2 کروڑ 80 لاکھ ہے، جو ڈیجیٹل فنانشل سروسز کی جانب منتقلی کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، اسٹیٹ بینک ادائیگی کے نظاموں کے تحفظ اور مضبوطی برقرار رکھنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔گورنرسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالی نظام پر اعتماد اور شفافیت یقینی بنانے کیلئے سخت سائبر سکیورٹی، اینٹی منی لانڈرنگ ، فراڈ مینجمنٹ اور انضباطی فریم ورکس لازمی قرار دیا ہے۔

گورنر جمیل احمد نے ورلڈ بینک گروپ کی تکنیکی اور مالی معاونت کا اعتراف اور منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے ماہرین اور اسٹیٹ بینک کی ٹیموں کو سراہتے ہوئے کہاکہ پرزم پلس صرف 14 ماہ کی کوششوں کے بعد لائیو ہوا، یہ کامیابی اسٹیٹ بینک، کمرشل بینکوں، کنسلٹنٹس، اور ٹیکنالوجی پارٹنرز کی ہم آہنگی سے ممکن ہوئی۔انہوںنے کہاکہ پرزم پلس اسٹریٹجک اثاثہ ہے، جو پاکستان کے ادائیگی کے نظاموں کو مستقبل کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔جمیل احمد نے کہا کہ سٹیٹ بینک مالی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور ڈجیٹل لحاظ سے بااختیار اور جامع معیشت کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے۔