Live Updates

سندھ میں سیلابی صورتحال پر 24/7 مانیٹرنگ، کنٹرول رومز قائم کرنے کا فیصلہ

جمعرات 28 اگست 2025 23:43

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2025ء)چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت صوبے میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ آبپاشی، بلدیات، صحت، لائیو اسٹاک، پبلک ہیلتھ ، پی ڈی ایم اے، ریسکو 1122 اور دیگر محکموں کے افسران شریک ہوئے جبکہ تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس کو محکمہ آبپاشی کی جانب سے دریاؤں میں پانی کے بہا اور ابھرتی ہوئی سیلابی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ پنجاب میں جاری بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث سندھ میں بھی بڑے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، اس لیے صوبے بھر میں تمام تیاریاں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صوبائی انتظامیہ سیلاب کی صورتحال کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کر رہی ہے اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو مکمل الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

چیف سیکریٹری نے مزید کہا کہ **وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ بھی سیلابی تیاریوں پر اجلاس کی صدارت کر چکے ہیں** جس سے واضح ہوتا ہے کہ عوام کے تحفظ کے لیے حکومت سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ چیف سیکریٹری نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ جامع **ہنگامی منصوبے (Contingency Plans)** مرتب کریں، جن میں عوام اور مال مویشیوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ تمام سرکاری و نجی مشینری اور دستیاب وسائل کی تفصیلات مرتب کی جائیں تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر استعمال میں لائی جا سکیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چیف سیکریٹری آفس، کمشنر آفسز اور ڈپٹی کمشنر آفسز میں **کنٹرول رومز** قائم کیے جائیں گے تاکہ سیلابی صورتحال کی مسلسل نگرانی اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید برآں، لازمی خدمات فراہم کرنے والے تمام محکموں بشمول آبپاشی، بلدیات، صحت، پولیس، پبلک ہیلتھ، لائیو اسٹاک اور فیلڈ افسران کے دفاتر کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ چیف سیکریٹری نے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ ملیریا اور دیگر آبی بیماریوں سے بچا کی ادویات اور ویکسین کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ **سانپ کے کاٹے کے لیے اینٹی وینم ویکسین اور ریبیز ویکسین** بھی ہسپتالوں اور صحت مراکز پر وافر مقدار میں دستیاب ہوں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

اسی طرح محکمہ لائیو اسٹاک کو ہدایت دی گئی کہ مویشیوں کی ویکسینیشن فوری طور پر مکمل کی جائے تاکہ سیلابی صورتحال میں ان کی حفاظت ممکن ہو سکے۔ چیف سیکریٹری نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ پاک فوج، نیوی، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں تاکہ بروقت ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کیے جا سکیں۔ مزید برآں، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو پابند کیا گیا کہ وہ ذاتی طور پر دریا کے کنارے والے علاقوں کا دورہ کریں اور زمینی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لیں۔

چیف سیکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ کمشنرز متاثرہ آبادی اور ریسکیو سرگرمیوں کے لیے جامع منصوبہ بندی کریں جس میں انخلا کی حکمت عملی، ریلیف کیمپس اور ایمرجنسی سپورٹ سسٹمز پہلے سے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اور فعال اقدامات انسانی جانوں اور مویشیوں کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ چیف سیکریٹری نے ریسکیو 1122 اور پی ڈی ایم اے (PDMA) کو بھی ہدایت دی کہ وہ اپنی تمام دستیاب کشتیوں، ریسکیو آلات، ادویات، خیموں اور دیگر سامان کی تفصیلات فوری طور پر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ شیئر کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ان وسائل کو بروئے کار لایا جا سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں مجموعی طور پر **188 ریسکیو کشتیاں** دستیاب ہیں تاکہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ چیف سیکریٹری نے مزید ہدایت دی کہ ڈپٹی کمشنرز مقامی وینڈرز کی نشاندہی اور ان سے رابطہ قائم کریں تاکہ ضرورت پڑنے پر اضافی کشتیاں فوری طور پر فراہم کی جا سکیں اور ریسکیو و انخلا کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

یہ پیشگی اقدامات عوام کو بروقت مدد اور سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ چیف سیکریٹری نے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ میڈیا کو باقاعدگی سے بریف کریں تاکہ عوام حکومت کی تیاریوں اور جاری ریلیف اقدامات سے باخبر رہ سکیں۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ ایک مربوط اور منظم حکمت عملی ہی شہریوں اور مویشیوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنا سکتی ہے۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات