شاہ جہاں کا صغراں بی بی اغواء کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے ، فرزانہ بی بی

جمعرات 28 اگست 2025 23:41

خضدار(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2025ء)لیویز فورس کے اہلکار شاہ جہاں بنگلزئی کے خاندان نے آج خضدار پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ جہاں کی بے گناہی کا موقف پیش کیا اور انصاف کی اپیل کی۔ پریس کانفرنس میں شاہ جہاں کی بہنوں فرزانہ بی بی اور ریحانہ بی بی، والدہ مریم بی بی، اہلیہ نادیہ شاہ جہاں اور خاندان کے دیگر افراد نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ شاہ جہاں کو صغریٰ بی بی کے مبینہ اغوا کیس میں حراست میں لیا گیا ہے، لیکن ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔خاندان نے تفصیل سے بتایا کہ شاہ جہاں لیویز فورس میں ملازم ہیں اور ڈائریکٹر قلات زون کے ماتحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ اغوا کا واقعہ 26 اگست 2025 کو دن کے وقت ساڑھے بارہ بجے کے قریب پیش آیا، جب کہ اس وقت شاہ جہاں اپنے دفتر میں موجود تھے۔

(جاری ہے)

فرزانہ بی بی نے کہا، "شاہ جہاں صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک دفتر میں ڈیوٹی پر تھے۔ اس کی تصدیق دفتری ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور وہاں موجود دیگر افراد کے بیانات سے کی جا سکتی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ شاہ جہاں کو 27 اگست کی رات 12 بجے کے بعد گھر سے حراست میں لیا گیا اور ان پر اس کیس میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا، جو کہ خاندان کے مطابق بے بنیاد ہے۔

فرزانہ بی بی نے کہا کہ مبینہ مغویہ صغریٰ بی بی نے اپنی پریس کانفرنس اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دو سے تین ویڈیوز میں شاہ جہاں کا نام کہیں نہیں لیا۔ "ہم نے مغویہ کے ورثا سے رابطہ کیا تو انہوں نے واضح کیا کہ وہ شاہ جہاں کو نہیں جانتے اور نہ ہی انہوں نے اس کیس میں ان کی کوئی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ جہاں کو اس کیس میں ملوث کرنا سچائی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہو سکتی ہے، اور وہ اسے اپنے خاندان پر ظلم سمجھتے ہیں۔

والدہ مریم بی بی نے جذباتی انداز میں کہا، "ہمارا بیٹا ایک ایماندار اور ذمہ دار سرکاری ملازم ہے جو اپنی ڈیوٹی پوری لگن سے انجام دیتا ہے۔ اسے بلاوجہ اس کیس میں گھسیٹا گیا ہے۔ ہم صرف انصاف مانگ رہے ہیں۔" اہلیہ نادیہ شاہ جہاں نے مزید کہا کہ شاہ جہاں کی گرفتاری سے پورا خاندان صدمے میں ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے کی منصفانہ تفتیش کی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

خاندان نے کہا کہ وہ قانون پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکام اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں۔ انہوں نے خضدار انتظامیہ، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، آئی جی پولیس، کمشنر قلات ڈویڑن اور ایس ایس پی خضدار سے اپیل کی کہ شاہ جہاں کو انصاف دلایا جائے۔ "ہم امید رکھتے ہیں کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر ثبوتوں کی جانچ پڑتال سے ہمارے بھائی کی بے گناہی ثابت ہو جائے گی۔پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا حق مانگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انصاف نہ ملا تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔