ًمودی سرکار کی ہندو توا پالیسیاں، آسام میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبری بے دخلی مہم تیز

جمعرات 28 اگست 2025 19:28

آسام (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 اگست2025ء)بھارت کی بی جے پی حکومت کی ہندو توا پالیسیوں کے تحت آسام میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبری بے دخلی کی مہم تیز کر دی گئی ہے، جس سے ہزاروں بنگالی نڑاد مسلمان خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔بھارتی جریدے دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے آسام میں مسلم مخالف مہم اور جبری بے دخلی پر اپنی رپورٹ پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جون اور جولائی کے دوران آسام میں 3,300 سے زائد بنگالی نڑاد مسلمان خاندانوں کو زبردستی بے دخل کیا گیا۔

رپورٹ مرتب کرنے والی سات رکنی ٹیم میں معروف سماجی کارکن، وکیل، سابق افسران اور محققین شامل تھے، جنہوں نے گولپارہ اور کامرپ اضلاع کا دورہ کیا۔

(جاری ہے)

ٹیم نے اس مہم کو مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے چلائی گئی کارروائی قرار دیا جو بھارتی آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔قومی فیڈریشن آف انڈین ویمن کی صدر سیدہ سیدین حمید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آسام کبھی ایسا نہیں تھا، اب یہ ایک مونسٹر بن چکا ہے جہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتقامیت بڑھتی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے آسام میں میا (مسلمان) کو عزت کے طور پر کہا جاتا تھا، لیکن اب یہ لفظ گالی بن چکا ہے جبکہ بنگلادیشی مسلمانوں کے لیے تحقیر کا نشان بنا دیا گیا ہے۔ معروف وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ آسام حکومت قانون کی پرواہ کیے بغیر زمینیں کارپوریشنز کو فروخت کر رہی ہے اور جان بوجھ کر بنگالی مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق مودی سرکار کی ہندو توا پالیسیوں نے آسام کو مسلمانوں کے لیے خوف، نفرت اور ریاستی ظلم کی سرزمین بنا دیا ہے، جہاں بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات کے تحت ہندو اکثریتی تسلط قائم کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔