پاکستان کا پورٹ قاسم کے قریب میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس کے لئے چینی سرمایہ کاروں کو ایک ہزار ایکڑ زمین الاٹ کرنے کا منصوبہ

جمعہ 29 اگست 2025 16:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) حکومت پورٹ قاسم کے قریب ایک مربوط میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس کے قیام کے لئے چینی سرمایہ کاروں کو 1,000 ایکڑ زمین الاٹ کرنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔وزارت بحری امور کے ٹیکنیکل ایڈوائزر جواد اختر نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ یہ زمین چینی سرمایہ کاروں کے لئے مختص کی جا رہی ہے تاکہ وہ ایک وسیع پیمانے پر جدید مرکز قائم کریں، جو جہاز سازی، جہاز توڑنے، مرمت و دیکھ بھال اور ری سائیکلنگ جیسی مختلف میری ٹائم سرگرمیوں کو یکجا کرے گا۔

یہ سب ایک ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے تحت ہوگا جس کا مقصد پاکستان کی میری ٹائم انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔جواد اختر نے وضاحت کی کہ اس منصوبے کا مقصد پرانے جہاز توڑنے کے طریقوں کی جگہ لینا ہے جو طویل عرصے سے گڈانی میں رائج ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب گڈانی جہاز توڑنے میں دنیا میں نمبر ایک تھا لیکن آج یہ پرانے طریقوں کی وجہ سے پیچھے رہ گیا ہے، یہ منصوبہ اس عظمت کو دوبارہ زندہ کرے گا۔

انہوں نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ چینی سرمایہ کار جہازوں کی توڑ پھوڑ اور ری سائیکلنگ کے لئے روبوٹک اور جدید ٹیکنالوجی سسٹمز لانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام پر بڑے ڈوکس تعمیر کئے جائیں گے تاکہ جہاز توڑنے کے مؤثر اور جدید عمل کو ممکن بنایا جا سکےجو روایتی طریقوں پر انحصار سے ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔ کمپلیکس کی ایک اور اہم خصوصیت ری رولنگ ملز کی تنصیب ہوگی تاکہ پگھلے ہوئے جہازی سٹیل کو براہِ راست وہیں پراسیس کیا جا سکے۔

اس وقت پاکستان جہازی معیار کا اسٹیل درآمد کرتا ہے کیونکہ ملکی پیداوار ناکافی ہے۔ نئی سہولیات کے ساتھ ملک اپنی طلب پوری کرنے کے قابل ہو جائے گا جس سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا اور قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ٹیکنالوجی کی ترقی کے پیمانے کو اجاگر کرتے ہوئے جواد اختر نے کہا کہ نیا کمپلیکس ایسے جہاز تیار کرنے کے قابل ہوگا جو پاکستان میں اس وقت تیار ہونے والے جہازوں سے سات سے آٹھ گنا بڑے ہوں گے، اور وہ بھی صرف ایک سال کے قلیل عرصے میں۔

اس سے وقت کی بچت میں تقریباً 70 فیصد بہتری آئے گی۔جواد اختر نے زور دیا کہ زمین کی الاٹمنٹ اور کمپلیکس کی تعمیر صرف ایک انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی بلیو اکانومی کی بحالی ہے، جو ملک کو نہ صرف ایک علاقائی مرکز بلکہ جہاز سازی، ری سائیکلنگ اور مرمت میں ایک نمایاں عالمی کھلاڑی کے طور پر بھی سامنے لائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر میں کسی ایک کمپنی کی جانب سے اس پیمانے کی پہلی سرمایہ کاری ہے۔ جب یہ مکمل ہو جائے گا تو یہ ہماری جہاز سازی، ری سائیکلنگ اور مرمت کی صلاحیتوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر دے گا اور پاکستان کو اس صنعت میں ایک عالمی رہنما بنا دے گا۔