وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیرصدارت سی آئی ایم ایم وائی ٹی کے پاکستان میں کنٹری ریپر یزنٹیٹو کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس، قومی غذائی تحفظ کے لیے گندم کی پیداوار میں اضافہ کا عزم

جمعہ 29 اگست 2025 23:17

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے سی آئی ایم ایم وائی ٹی کے پاکستان میں کنٹری ریپر یزنٹیٹو ڈاکٹر ساجد علی کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پاکستان اور سی آئی ایم ایم وائی ٹی کے درمیان جاری شراکت داری اور گندم کی پیداوار بڑھانے اور ملک میں غذا اور غذائیت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جدید حکمت عملیوں کا جائزہ لیا گیا۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق وفاقی وزیر نے پاکستان میں 1960ء کی دہائی کے دوران سبز انقلاب لانے میں ڈاکٹر نارمن بورلاگ اور پاکستانی سائنسدانوں کے تاریخی کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے سی آئی ایم ایم وائی ٹی میکسیکو کی تیار کردہ سیمیڈارف (Semidwarf) گندم کی اقسام کو اپنایا جس سے غذائی قلت پر قابو پانے اور پائیدار غذائی تحفظ کی بنیاد رکھنے میں مدد ملی۔

(جاری ہے)

پاکستان نے ڈاکٹر بورلاگ کی خدمات کے اعتراف میں 1968ء میں انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا تھا۔ڈاکٹر ساجد علی نے وفاقی وزیر کو پاکستان کی زرعی ترقی میں سی آئی ایم ایم وائی ٹی کے طویل المدتی کردار کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صرف گزشتہ دہائی (2015–2025) کے دوران پاکستان میں تقریباً 70 نئی گندم کی اقسام متعارف کرائی گئیں جن میں سے 90 فیصد سی آئی ایم ایم وائی ٹی کے جدید جینوم پر مبنی ہیں۔

آج پاکستان کی تقریباً 9 ملین ہیکٹر زمین پر اگنے والی 90 فیصد گندم 25 کروڑ آبادی کو غذا فراہم کرتی ہے، سی آئی ایم ایم وائی ٹی کی اختراعات پر مبنی ہے۔ یہ اقسام زیادہ پیداوار، بیماریوں کے خلاف مزاحمت، بہتر معیار اجناس اور زنک و آئرن جیسے ضروری غذائی اجزاء سے بھرپور ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر کو سی آئی ایم ایم وائی ٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر برام گووارٹس کے دورہ پاکستان کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو 14 تا 16 ستمبر 2025ء کو متوقع ہے۔

اپنے دورے کے دوران ڈاکٹر گووارٹس وزارت، قومی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں سے ملاقاتیں کریں گے۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ گندم کی پیداوار میں اضافہ پاکستان کی مجموعی زرعی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ گندم ملک کی بنیادی فصل ہے اور خوراک کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید اقسام اور نئی کاشت کاری کی تکنیکوں کو اپنانے سے نہ صرف فی ایکڑ پیداوار بڑھے گی بلکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو گا، درآمدات پر انحصار کم ہو گا اور زرعی شعبہ زیادہ پائیدار بنے گا۔

وفاقی وزیر نے پاکستان میں سی آئی ایم ایم وائی ٹی کی سرگرمیوں کے لیے حکومت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور اس شراکت داری کو غذائی خود کفالت اور عوام کے لیے بہتر غذائیت یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔