ایم ڈی اے پی پی کو اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں بے نقاب کرنے پر پارلیمانی کمیٹی کا خراجِ تحسین، تمام ممکنہ تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی

جمعہ 29 اگست 2025 21:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے جمعہ کو ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد عاصم کھچی کو ادارے میں اربوں روپے کے بڑے مالیاتی اسکینڈل کو بے نقاب کرنے پر ان کے مثالی کردار پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ایم این اے پلّین بلوچ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے متفقہ طور پر محمد عاصم کھچی کی قیادت کو سراہا، جنہوں نے ایک جامع داخلی تحقیقات کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔

ان تحقیقات میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے ایک منصوبے سے 1.24 ارب روپے کی خورد برد سامنے آئی، جبکہ جعلی بھرتیوں اور ادارے کے پروویڈنٹ فنڈ کے ناجائز استعمال کا الگ اسکینڈل بھی بے نقاب ہوا۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے ایم ڈی کو ’’وسل بلوئر‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی دیانت داری اور اصولی عزم کو سراہا جس کے ذریعے انہوں نے بدعنوانی کے منظم نیٹ ورک کو توڑا۔

چیئرپرسن پلّین بلوچ نے زور دیا کہ احتساب کے عمل میں بلاوجہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور یقین دلایا کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مکمل پارلیمانی تعاون فراہم کیا جائے گا۔سیکرٹری اطلاعات و نشریات عنبرین جان نے بھی اس اسکینڈل کو بے نقاب کرنے میں محمد عاصم کھچی کے فیصلہ کن کردار کو تسلیم کیا اور وزارت کی شفافیت اور ادارہ جاتی احتساب کے عزم کو دہرایا۔

کمیٹی کے اراکین، جن میں کرن عمران ڈار اور سید امین الحق (ایم کیو ایم) شامل تھے، نے ادارہ جاتی شفافیت کو مضبوط بنانے کے لیے ایم ڈی ’’اے پی پی ‘‘کے اصلاحاتی ایجنڈے کی توثیق کی۔ امین الحق نے مزید استفسار کیا کہ آیا ایماندار ایم ڈی کو بدعنوان نیٹ ورک سے وابستہ عناصر کی جانب سے کسی قسم کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں یا نہیں، اور دیگر اراکین کے ساتھ مل کر ان کی شفافیت برقرار رکھنے اور بیرونی دباؤ کے خلاف ڈٹ جانے کی کوششوں میں غیر متزلزل حمایت کا عزم ظاہر کیا۔

کمیٹی نے متفقہ طور پر اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ تمام میڈیا سے متعلقہ محکموں میں احتساب کو یقینی بنایا جائے گا اور ’’اے پی پی ‘‘کے منیجنگ ڈائریکٹر کو ہدایت دی کہ خورد برد شدہ رقوم کی وصولی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔\932