امریکی عدالت سے ٹیرف غیرقانونی قرار، ٹرمپ نے سخت ردعمل دے دیا

تمام ٹیرف اب بھی مؤثر ہیں، اگر یہ ٹیرف برقرار نہ رکھے گئے تو یہ ملک کے لیے ایک مکمل تباہی ہوگی، یہ کیس بالآخر سپریم کورٹ میں طے کیا جائے گا؛ امریکی صدر کا عدالتی فیصلے پر بیان

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 30 اگست 2025 10:57

امریکی عدالت سے ٹیرف غیرقانونی قرار، ٹرمپ نے سخت ردعمل دے دیا
واشنگٹن ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اگست 2025ء ) امریکی عدالت کی جانب سے صدر کے عائد کردہ بیشتر عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا جس پر ٹرمپ کی جانب سے سخت رد عمل آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپیل کورٹ کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے ٹیرف برقرار رکھنے کا اعلان کیا، ان کا کہنا ہے کہ تمام ٹیرف اب بھی مؤثر ہیں، اپیل کورٹ نے غلط طور پر کہا کہ ہمارے ٹیرف کو ختم کر دینا چاہیئے مگر وہ جانتے ہیں آخر میں جیت امریکہ کی ہی ہوگی، اگر یہ ٹیرف برقرار نہ رکھے گئے تو یہ ملک کے لیے ایک مکمل تباہی ہوگی، یہ ہمیں مالی طور پر کمزور کر دے گا تاہم ہمیں مضبوط رہنا ہے کیوں کہ ٹیرف تجارتی خسارے اور غیر ملکی تجارتی رکاوٹوں کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اب بڑے تجارتی خسارے اور غیر منصفانہ ٹیرفس اور تجارتی رکاوٹوں کو برداشت نہیں کرے گا، چاہے وہ ممالک دوست ہوں یا دشمن جو ہماری مینوفیکچرنگ، کسانوں اور دیگر سب کو نقصان پہنچا رہے ہیں، یہ کیس بالآخر سپریم کورٹ میں طے کیا جائے گا، سپریم کورٹ کی مدد سے ہم انہیں اپنے ملک کے فائدے کے لیے استعمال کریں گے اور امریکہ کو دوبارہ مالدار، مضبوط اور طاقتور بنائیں گے۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ امریکی اپیل کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ ٹرمپ کے زیادہ تر ٹیرف غیر قانونی ہیں، ٹرمپ نے ان ٹیرف کو عائد کرنے میں اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے جنہیں انہوں نے تجارتی مذاکرات میں طاقت کے طور پر استعمال کیا اور غیر ملکی حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے نافذ کیا تھا، اگرچہ صدر کو ایمرجنسی کی صورتحال کے دوران وسیع اختیارات حاصل ہیں، ان اختیارات میں خاص طور پر ٹیرف عائد کرنے کی صراحت نہیں کی گئی۔