ضمنی الیکشن میں وزیرِمملکت طلال چوہدری کی مسلسل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی

الیکشن کمیشن نے این اے 96 فیصل آباد سے ان کے بھائی بلال چوہدری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک لیا

Sajid Ali ساجد علی پیر 24 نومبر 2025 11:52

ضمنی الیکشن میں وزیرِمملکت طلال چوہدری کی مسلسل ضابطہ اخلاق کی خلاف ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 نومبر2025ء) ضمنی الیکشن میں وزیرِمملکت طلال چوہدری کی جانب سے مسلسل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے این اے 96 فیصل آباد سے ان کے بھائی بلال چوہدری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک لیا۔ تفصیلات کے مطابق این اے 96 فیصل آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا لیگی کارکنان کے ہمراہ مسلم لیگ ن کی جیت کا جشن منایا، اس حلقے میں طلال چوہدری کے بھائی بلال بدرکامیاب ہوئے ہیں تاہم این اے 96 فیصل آباد میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کی مسلسل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے ان کے بھائی بلال چوہدری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک لیا۔

اس سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ ابھی ہم بلال چوہدری کو نااہل نہیں کرتے صرف کامیابی کا نوٹیفکیشن روک رہے ہیں، نوٹس کے باوجود وہ الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوئے، ایک تو انہوں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اور اوپر سے وہ کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے، وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر اپنے آپ کو قانون کے تابع نہیں سمجھتے۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر چیز کی ایک لیگل سکیم ہے، دنیا بھر میں انتخابات میں خلاف ورزیاں ہوتیں ہیں، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کمیشن نے بلاتفریق ایکشن لیا، لوکل گورنمنٹ انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک وزیر اور امیدوار کو نااہل کیا تھا، طلال چوہدری کو بھی طلب کیا ہے سماعت ہوگی، ڈی آراوز نے کچھ رپورٹس بھیجی ہیں، کچھ شکایات کا کمیشن نے خود نوٹس لیا، مجموعی طور پر پورے ملک میں ضمنی انتخابات بہت پُر امن رہے، کسی بھی جگہ کوئی لڑائی جھگڑا یا بدامنی دیکھنے کو نہیں ملی۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات میں ہمیشہ ٹرن آؤٹ کم رہتا ہے، ٹرن آؤٹ کم ہونے کی کئی وجوہات ہیں، اس الیکشن میں نمبر گیم سے تبدیلی نہیں ہونی تھی جس کی وجہ سے عوام کی دلچسپی کم رہی، تاہم پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی حکومتوں کا شکرگزار ہوں، ضمنی انتخاب میں کوئی غیر معمولی شکایات موصول نہیں ہوئیں، کمیشن وقتاً فوقتاً اپنی تجاویز حکومت کو بھیجتا رہتا ہے، کمیشن کے پاس ٹربیونل کو ہدایات دینے کا کوئی اختیار نہیں۔