سندھ ایکشن کمیٹی کا 26 ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے خاتمے کے لئے قومی کانفرنس کا اعلان

پیر 8 دسمبر 2025 19:55

جامشورو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 دسمبر2025ء) سندھ ایکشن کمیٹی کا 26 ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے خاتمے اور مجوزہ 28 ویں ترمیم کے ذریعے سندھ کی وحدت اور وسائل پر قبضے کے خلاف سندھ میں رائے عامہ جوڑنے کے لیے قومی کانفرنس کا اعلان کردیا ہے۔27دسمبر کو کراچی، 2 جنوری کو حیدرآباد، 8 جنوری کو لاڑکانہ جبکہ 22 جنوری کو نواب شاہ میں قومی کانفرنس منعقد کی جائیں گی۔

یہ اعلان پیر کو جی ایم سید ایڈیفیس جامشورو میں سندھ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر اور کنوینر سندھ ایکشن کمیٹی سید زین شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ریاض چانڈیو، ڈاکٹر نیاز کالانی، سید مسرور شاہ، تاج مری، نواز خان زنئور، فتاح چنا، پروفیسر آدم بٹ، ڈاکٹر بدر چنا، امداد پھنور، روشن علی برڑو، کامریڈ حسین بخش تھیبو و دیگر نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس کے بعد مشترکہ پریس بریفننگ سے خطاب کرتے ہوئے سید زین شاہ نے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے ذریعے ملک میں آمریت نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، عدلیہ کو کمزور کیا گیا ہے اور سرکاری عدالتوں کے قیام کے ذریعے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جارہے ہیں، جبکہ سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں، جو شدید قابلِ مذمت عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں گزشتہ روز کراچی میں ثقافتی دن منانے کے دوران سندھ کے نوجوانوں پر سندھ پولیس کی جانب سے ریاستی تشدد اور گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور اس کا ذمہ دار پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو قرار دیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ حکومتِ سندھ کے احکامات پر قومی ثقافتی دن کی تقریبات روکنے کے لیے نوجوانوں کو بلاجواز روکا گیا، ان پر وحشیانہ تشدد کیا گیا اور پولیس اہلکاروں نے غلیظ زبان استعمال کی، جس سے سندھ بھر اور بیرونِ سندھ رہنے والے سندھی عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سندھی قومِ سے معافی مانگے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو فورا ختم کیا جائے، آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے، ملک بھر کے سیاسی قیدیوں کو فوری انصاف فراہم کرتے ہوئے رہا کیا جائے اور مورو واقعے میں بیگناہ گرفتار افراد کے خلاف درج جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں۔

اجلاس میں مزید طے کیا گیا کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کی تاریخی قومی وحدتوں کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے، نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانے، صوبوں کے مالی اختیارات مرکز کے حوالے کرنے اور بلدیاتی اداروں کو وفاق کے ماتحت کرنے سمیت صوبائی خودمختاری میں مداخلت کی ہر کوشش کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ اجلاس میں آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جس میں ملک میں بدترین کرپشن اور لوٹ مار کے ٹھوس شواہد پیش کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ملک پر قابض قوتوں جس میں آصف زرداری اور نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کا حامی بنا رکھا ہے، اور ان کی باہمی سازباز کے نتیجے میں ملک میں عدم استحکام اور معاشی تباہی ہو رہی ہے۔