پاک ڈیٹا کام کے سی ای او بریگیڈیئر (ر) ذوالفقار نے الزام لگایا کہ انہیں زبردستی چھٹی پر بھیج کر تذلیل کا نشانہ بنایا گیا

انہوں نے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور وزارت آئی ٹی پر ناانصافی کے الزامات عائد کیے، کمیٹی نے وزارت سے تفصیلی بریفنگ طلب کر لی

Ameer Hamza امیر حمزہ پیر 12 جنوری 2026 17:05

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں وزارت آئی ٹی کے ذیلی ادارے پاک ڈیٹا کام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بریگیڈیئر (ر) ذوالفقار نے اپنے ہی بورڈ آف ڈائریکٹرز اور وزارت آئی ٹی کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہیں زبردستی چھٹی پر بھیج دیا گیا اور ان کی تذلیل کی گئی، کمیٹی اجلاس میں بریگیڈیئر (ر) ذوالفقار نے بتایا کہ وہ اس اعلیٰ فورم پر انصاف کی امید لے کر آئے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ بطور سی ای او ناانصافی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک ڈیٹا کام پاکستان کی 16 لسٹڈ آئی ٹی کمپنیوں میں شامل ہے اور انہوں نے اپنی محنت سے اس ادارے کو ملک کی دوسری بڑی آئی ٹی کمپنی کے مقام تک پہنچایا، مگر اس کے باوجود انہیں زبردستی گھر بھیج دیا گیا، بریگیڈیئر (ر) ذوالفقار نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے کمپنی میں موجود چند “شرپسند عناصر” کو نکالا تھا، جس کے بعد انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ اگر وہ ان افراد کو بحال نہ کریں تو انہیں نتائج بھگتنا ہوں گے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ اپنی پوری فوجی سروس کے دوران انہیں کبھی ایسی تذلیل اور دھمکیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا جیسا اب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ چیئرمین بورڈ زوم محی الدین نے انہیں زبردستی چھٹی پر بھیجا اور اس عمل میں ان کی تذلیل بھی کی گئی۔ ان کے مطابق وزارت آئی ٹی بھی اس اقدام میں شامل رہی ہے،کمیٹی کی چیئرپرسن نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ انہیں بطور سی ای او زبردستی چھٹی پر کیوں بھیجا گیا، جس پر بریگیڈیئر (ر) ذوالفقار نے تفصیل سے اپنی شکایات بیان کیں، سینیٹر افنان اللہ نے معاملے کو انتہائی سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بریگیڈیئر (ر) ذوالفقار کے الزامات اور پورے معاملے پر وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کو واضح جواب دینا ہوگا۔

اس پر وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے حکام نے کمیٹی سے وقت مانگتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ اجلاس میں اس پورے معاملے پر تفصیلی بریفنگ دیں گے،بعد ازاں چیئرپرسن قائمہ کمیٹی نے وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں پاک ڈیٹا کام کے سی ای او کی شکایت اور ان کے الزامات پر مکمل بریفنگ دی جائے تاکہ معاملے کی شفاف تحقیقات ممکن بنائی جا سکیں۔