Live Updates

مشرق وسطیٰ جنگ سے شام میں بحالی کا عمل متاثر ہونے کا خطرہ، یو این

یو این جمعرات 19 مارچ 2026 05:30

مشرق وسطیٰ جنگ سے شام میں بحالی کا عمل متاثر ہونے کا خطرہ، یو این

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 19 مارچ 2026ء) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں عالمی برادری کو شام کی مدد کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی جو 14 سالہ خانہ جنگی کے بعد سیاسی تبدیلی کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب خصوصی نمائندے کلاڈیو کورڈون نے کونسل کو بتایا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرون کو فضا میں روکے جانے کے بعد ان کا ملبہ گرنے سے شام میں بھی شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

لبنان کی جانب سے بھی گولہ باری کا ایک واقعہ پیش آیا جس کا الزام حزب اللہ پر عائد کیا گیا ہے۔

اسرائیلی ہیلی کاپٹروں اور ڈرون طیاروں کی شامی فضائی حدود میں سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں جبکہ اسرائیلی افواج بھی شامی سرزمین میں دراندازی کر رہی ہیں۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں، لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں وہاں شامی شہری بھی مارے گئے ہیں اور تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار افراد نے تحفظ کے لیے شام کی جانب نقل مکانی کی ہے جن میں بڑی تعداد شامی شہریوں کی ہے۔

UN Photo/Eskinder Debebe

اسرائیل سے مطالبات

انہوں نے کہا کہ اسرائیل شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرے، 1974 کے معاہدہ علیحدگی کی پاسداری کرے، اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو شام کے استحکام اور سیاسی عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔

انہوں نے شامی حکومت کی جانب سے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ملک کو مزید کشیدگی سے بچانے اور اپنی سرزمین کو وسیع تر تنازع کا حصہ نہ بنانے کی کوششوں کو سراہا۔

کلاڈیو کورڈون نے خبردار کیا کہ شام کی سست رفتار مگر نازک بحالی طویل علاقائی تنازع کے اثرات سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ملک کو اس کشیدگی سے محفوظ رکھنے اور بحالی و استحکام کے عمل کو تیز کرنے کے لیے کوششیں بڑھانا ہوں گی۔

نازک موقع پر نئی آزمائش

اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کی ڈائریکٹر جوائس مسویا نے شام میں انسانی بحران کا تذکرہ کرتے ہوئے کونسل کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی ملک کے لیے نازک وقت میں نئی آزمائش لے کر آئی ہے جبکہ بہتری کا حقیقی موقع بھی موجود ہے۔

UN Photo/Loey Felipe

فضائی حدود کی پابندیوں، دمشق ایئرپورٹ بند ہونے اور سلامتی سے متعلق خطرات کے باوجود شام میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

اس وقت ملک کے پاس معاشی بحالی اور امداد پر انحصار کم کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ تاہم یہ موقع انتہائی نازک ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے مسلسل بین الاقوامی حمایت درکار ہوگی۔

سفارت کاری، امداد اور استحکام

جوائس مسویا کا کہنا تھا کہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے مستقل سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں تاکہ استحکام پیدا ہو اور لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔

اس میں شمال مشرقی شام جیسے علاقوں میں سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانا بھی شامل ہے جہاں حالیہ تشدد نے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ حالات نے طوالت اختیار کی تو بحری راستوں میں خلل، ایندھن، کھاد اور ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ شام کی کمزور معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انہوں نے انسانی امداد جاری رکھنے کے لیے بھی زور دیا کیونکہ مالی وسائل کی کمی اور بینکاری سہولیات کی عدم دستیابی امدادی کاموں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

UN Photo/Eskinder Debebe

معیاری تعلیمی نظام کی ضرورت

اولمپک کھیلوں میں حصہ لینے والی پناہ گزینوں کی پہلی ٹیم کی رکن یسرٰیٰ مردینی نے بھی کونسل سے خطاب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کے شام میں بچوں کی نصف تعداد نے کبھی امن نہیں دیکھا۔ ملک کو صرف جسمانی نہیں بلکہ سماجی اور قومی سطح پر بھی طویل بحالی درکار ہے۔ شام کے لوگوں کو ایک ایسے مستقبل کی ضرورت ہے جہاں مذہبی فرقہ واریت انہیں تقسیم نہ کرے اور نہ ہی کسی ایک گروہ کو دوسرے پر ترجیح دی جائے۔

انہوں نے شامی نوجوانوں کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مالی مدد، سرمایہ کاری اور صلاحیت سازی کے ذریعے ملک کو ایک معیاری تعلیمی نظام قائم کرنے میں مدد دے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات