وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ کرنے کا اعلان

تمام تر اختلافات بھلا کر آپ کے ساتھ بیٹھا لیکن آپ نے عمران خان و بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں نہیں کروائیں، میرے خلاف کیس کھول دیئے، کیا ہم نے ہی حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہے، آپ پر پاکستان کیلئے کچھ فرض نہیں؟ سہیل آفریدی کا پریس کانفرنس سے خطاب

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 2 اپریل 2026 16:22

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ کرنے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 اپریل2026ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ کرنے کا اعلان کردیا، سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں بڑا جلسہ ہوگا، وکلاء اس جلسے کے این او سی کے لیے رجوع کریں گے، اگر روکا گیا تو جہاں ہوں گے وہیں جلسہ کریں گے احتجاج کریں گے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کسی ایسی پالیسی کا حصہ نہیں بنے گی جو عوامی مفاد کے خلاف ہو، حکومت کی جانب سے سمارٹ لاک ڈاؤن کی بات کی گئی جس کی میں نے مخالفت کی، تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ میں سرکاری میٹنگز میں شرکت کروں اس کے بعد ہی میں ان میٹنگز میں بیٹھا، میں تمام تر اختلافات بھلا کر آپ کے ساتھ بیٹھا لیکن آپ نے اگلے ہی روز عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں نہیں کروائیں، میرے خلاف کیس کھول دیئے۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا کہنا ہے کہ ہم نے تو ڈیڑھ سال سے احتجاج نہیں کیا پھر کیوں ملاقاتیں بند ہیں؟ کیا ہم نے ہی حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہے، آپ پر پاکستان کے لیے کچھ فرض نہیں؟ میں نے تمام آئینی قانونی راستے اپنائے ہیں، میں فوجی جنازوں میں شریک ہوا، مجھے دہشت گرد اور سمگلر کہا گیا لیکن اس کے باوجود میں نے فوجی جوانوں کے جنازوں کو کندھا دیا کیوں کہ فوج بھی میری اور ملک بھی میرا ہے لیکن 9 مئی اور 26 نومبر کے ہمارے شہداء کے جنازوں میں کون آیا؟ ہمیں 26 نومبر کو شہدا کی لاشیں تک نہیں دی گئیں۔

سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے کبھی میمو گیٹ سکینڈل نہیں کیا، کبھی ڈان لیکس نہیں کی، کبھی جرنیلوں کی تصویریں جلسہ میں نہیں چلائیں، کبھی سپریم کورٹ پر حملہ نہیں کیا، جنہوں نے سب کچھ کیا وہ اقتدار میں ہیں، میں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں عمران خان کی پالیسی رکھی اس پر انہوں نے عمل درآمد نہیں کیا، تمام ادارے تباہ ہو چکے ہیں، ججز کو چٹھی آتی ہے فیصلوں کی اور فیصلہ ہو جاتا ہے، تمام ادارے جعلی حکومت کے بچاؤ پر لگے ہیں، تحریک انصاف اور وزیر اعلیٰ تک کو دوسرے درجے کے شہری کے طور پر ڈیل کیا جا رہا ہے، کہا گیا مذاکرات کریں تو کیا نکلا مذاکرات سے؟ عمران خان کی ملاقات تک نہیں ہو سکی۔