لیاقت نہرو پیکٹ کے 76 برس مکمل ہونے پر آن۔لائن ڈائیلاگ کا انعقاد

معاہدے کے تحت پاکستان کو بھارتی مسلمانوں کے تحفظ کا حق حاصل ہے، محفوظ النبی خان

جمعرات 9 اپریل 2026 17:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اپریل2026ء) لیاقت نہرو پیکٹ کے عنوان سے منعقدہ آن لائن ڈائیلاگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے مقررین نے ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف زیادتیوں، تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لئے لیاقت نہرو معاہدہ کے تحت مثر سفارتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مقررین میں محفوظ النبی خان، محمد وسیم، اسلم فاروقی، مسعود عالم، سرفراز احمد اور ولی الرحمن شامل تھے۔

مقررین نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ لیاقت نہرو پیکٹ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ لیاقت نہرو پیکٹ پر 8 اپریل 1950 میں پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان اور ہندوستانی ہم منصب پنڈت جواہر لال نہرو کے درمیان دہلی میں دستخط ہوئے تھے۔

(جاری ہے)

اس معاہدے پر آزادی کے اولین برسوں میں دو طرفہ سفارتکاری کے ذریعے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب پیش رفت کی گئی تھی۔

مقررین نے کہا کہ ابتدائی ادوار میں پاکستان نے اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں مثر انداز میں پوری کیں، تاہم طویل عرصے سے حکومت پاکستان تسلسل کے ساتھ بھارت میں مقیم اقلیتوں کے حقوق کی وکالت میں مطلوبہ کردار ادا کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت ہندوستان میں تعینات پاکستانی سفارتی مشن کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ وہاں آباد اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے سیاسی و انسانی حقوق کے حوالے سے بھارتی حکومت کو بروقت متوجہ کرے۔

اس موقع پر سیمینار کے صدر محفوظ النبی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ کو بروئے کار لاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کروائے۔ انہوں نے لیاقت نہرو پیکٹ کے اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے اقلیتوں کے انسانی حقوق کے تناظر میں ایک اہم دستاویز قرار دیا۔