نوشکی رمضان میں راشن تقسیم بے ضابطگیوں کا نوٹس لیا جائے، میر پسند خان ماندائی

منگل 14 اپریل 2026 22:41

نوشکی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 اپریل2026ء) یونین کونسل باغک کے کونسلر و سیاسی و سماجی رہنما میر پسند خان ماندائی، وائس چیئرمین شبیر احمد ساسولی، حاجی جمیل احمد جمالدینی، رخشان سوشل فورم کیچیرمین کامریڈ جمیل بلوچ بلوچ،فکرنوتحریک نوجوانان کیچیرمین امیر محمد محمد حسنی، زنگی آباد کے کونسلر عبدالرحیم مینگل، محمد فاروق ماندائی نے نوشکی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا رمضان المبارک کے مہینے سے یونین کونسل باغک کے منتخب نمائندوں احتجاج جاری ہے۔

اگر چہ رمضان کا مہینہ گزر چکا ہے، لیکن اس وقت سے لے کر اب تک ہم مختلف فورمز پر ضلعی انتظامیہ کی ناانصافیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے آرہے ہیں۔ اب ہم اس معاملے کو عوام کے سامنے رکھنے کے لیے باقاعدہ پر یس کا نفر نس کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ رمضان فوڈ پیکج کے تحت 8 سے 10 ہزار راشن پیکجزصوبائی حکومت کی جانب سے نوشکی کے لیے مختص کیے گئے، مگر آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ راشن کہاں، کب اور کن افراد میں تقسیم کیا گیا۔

یہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہاکہ نوشکی میں پورے رمضان المبارک کے دوران سینکڑوں خواتین کو راشن کے لیے ٹوکن جاری کیے گئے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج تک ان مستحق خواتین کو راشن فراہم نہیں کیا گیا۔ اس نا انصافی کے خلاف خواتین نے دو مرتبہ ضلعی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ڈی سی آفس کے سامنے روڈ بلاک کیا، مگر اس کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ نوشکی فٹبال اسٹیڈیم میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تقریباً 200 سے 250 افراد میں راشن تقسیم کیا گیا، جب کہ بعد ازاں میڈیا میں اسے 2000 افراد تک ظاہر کیا گیا۔ اسی طرح 30 سے 40 راشن بیگز ویگو گاڑی میں رکھ کر ویڈیو بنا کر تقسیم کا تاثر دیا گیا اور بعد میں اسے 3 سے 4 ہزار افراد تک پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا، جو کہ انتہائی تشویشناک اور شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ اس نوعیت کی بے ضابطگیاں ماضی میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ موجودہ انتظامیہ کے دور میں جس طرح عوامی حقوق کو نظر انداز کیا گیا، وہ قابل مذمت اور باعث تشویش ہے۔اور ہم متعلقہ حکام سے وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، ڈی جی پی ڈی ایم اے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس سنگین معاملے کا نوٹس لیں اور نوشکی انتظامیہ سے پوچھا جائے کہ ی راشن کہاں اور کن لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔

اس نا انصافی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے تا کہ مستحقین کو ان کا حق مل سکے۔انہوں نے کہاکہ اب وقت آچکا ہے کہ ایک ایک راشن کے تھیلے کا حساب لیا جائے اور تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ ہم اپنے عوام کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے اور کسی قسم کی نا انصافی پر خاموش نہیں رہیں گے۔