مقبوضہ جموںوکشمیر،بھارتی انتظامیہ نے جماعت اسلامی کے 58سکول قبضے میں لے لیے

ہفتہ 18 اپریل 2026 16:42

سری نگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اپریل2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموںوکشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے جماعت اسلامی کے فلاح عام ٹرسٹ ادارے کے زیر انتظام کم از کم 58 اسکولوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انتظامیہ نے آج58 اسکولوں کو قبضے میں لینے کے حوالے سے ایک حکمنامہ جاری کیا۔

(جاری ہے)

مقبوضہ علاقے کے محکمہ سکول ایجوکیشن نے سکولوں کی ضبطی کے حوالے سے بھارتی محکمہ داخلہ کے اس نوٹیفکیشن کا بھی حوالہ دیا جس میں جماعت اسلامی کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت ایک ممنوعہ تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ایک افسر نے بتایا کہ یہ 58سکول جماعت ا سلامی یا اس سے وابستہ فلاح عام ٹرسٹ سے بالواسطہ یا بالواسطہ طور پر منسلک پائے گئے۔

تمام 58 سکولوں میں سرکاری عملہ تعینات کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے جماعت اسلامی پر فروری 2019میں پابندی عائد کر دی تھی ۔ بھارت نے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے امیر ڈاکٹر حمید فیاض اور ترجمان ایڈووکیٹ زاہد سمیت تنظیم کے کئی رہنما ﺅں کو بھی قید کر رکھا ہے جبکہ تنظیم کی کئی جائیدادیں پہلے ہی ضبط کی جاچکی ہیں۔