عدالت نے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم چوہدری اسلم کی درخواستِ ضمانت منظور کرلی

جمعرات 23 اپریل 2026 17:23

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اپریل2026ء) کراچی میں ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ کورٹ نمبر 4 نے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم چوہدری اسلم کی درخواستِ ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے ملزم کو دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا، جبکہ اسلحہ کیس میں بھی تیس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی گئی۔ملزم چوہدری اسلم کی جانب سے مقدمے کی پیروی لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ نے کی۔

سماعت کے دوران وکیل صفائی نے مقف اختیار کیا کہ ملزم بے گناہ ہے اور پولیس نے اسے غلط طور پر مقدمے میں ملوث کیا۔استغاثہ کے مطابق ملزم چوہدری اسلم پر الزام ہے کہ اس نے 29 اپریل 2023 کو اپنے بیٹوں محمد ارسلان اور عامر سجاد کے ہمراہ مدعی مقدمہ خالد عزیز کے بھائی ماجد عزیز کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔

(جاری ہے)

واقعے کا مقدمہ خالد عزیز کی مدعیت میں ایف آئی آر نمبر 193/2023 زیر دفعہ 302/34 تھانہ اتحاد ٹان میں درج کیا گیا تھا۔

پولیس نے ملزم کے خلاف اسلحہ برآمدگی کا ایک اور مقدمہ ایف آئی آر نمبر 194/2023 زیر دفعہ 25 اے کے تحت بھی تھانہ اتحاد ٹاؤن میں درج کیا تھا۔وکیل صفائی لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اصل واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقتول اور مدعی مقدمہ کے ساتھیوں نے ملزم کے گھر پر حملہ کیا اور اس کی بیٹی کو اغوا کرنے کی کوشش کی، جس دوران جھگڑا ہوا اور مقتول اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے دوران ملزم چوہدری اسلم کا بازو بھی ٹوٹ گیا تھا، جبکہ ملزم کی بہو رابعہ نے مدعی مقدمہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے متعدد درخواستیں دی تھیں۔ وکیل کے مطابق سندھ ہائی کورٹ بھی پولیس کو مقدمہ درج کرنے کے احکامات دے چکی ہے۔دفاعی وکیل نے یہ بھی مقف اختیار کیا کہ ملزم کے دونوں بیٹوں عامر سجاد اور محمد ارسلان کی ضمانتیں پہلے ہی منظور ہوچکی ہیں، جبکہ چوہدری اسلم گزشتہ تین برس سے جیل میں قید ہے اور سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کے باوجود پراسیکیوشن مقدمہ چلانے میں ناکام رہی۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد قتل کیس میں دو لاکھ روپے اور اسلحہ کیس میں تیس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے درخواستیں نمٹا دیں۔