بھارت ،ہندوشوہروں نے اپنی شناخت چھپاکردھوکے سے مسلمان خواتین سے شادی کرلی

پیر 27 اپریل 2026 11:23

ممبئی/بریلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 اپریل2026ء) بھارتی شہروں ممبئی اور بریلی میں دو مسلمان خواتین کا کہناہے کہ انہیں ان کے شوہروں نے دھوکہ دیا جنہوں نے شادی سے پہلے اپنی ہندو شناخت چھپا دی تھی اور بعد میں انہیں گھریلو تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ممبئی میں ایک خاتون نے بتایا کہ اس کے شوہر منیش نے جس سے اس کی ملاقات سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی، اس سے شادی کرنے سے پہلے کسی اور کا نام استعمال کیا۔

خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اسے حمل کے دوران اور جڑواں بیٹیوں کو جنم دینے کے بعد مارا پیٹا گیا۔ انہوں نے کہاکہ میرے حمل کے دوران میرا شوہر نکیتا پاریکھ نامی ایک اور خاتون سے باتیں کرتا تھا۔ جب میں نے اعتراض کیا تو اس نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا۔

(جاری ہے)

خاتون نے کہا کہ اس کے سسرال والوں نے لڑکا پیدا نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بہتر ہوتا اگر بچے ہسپتال میں ہی مر جاتے۔

خاتون نے کہاکہ اس پر پیسوں کے لیے دباو ¿ ڈالا گیا، اس کے شوہر، اسکی بہن اور دیگر افراد نے ماراپیٹا اور اس کے بچوں اور ذاتی دستاویزات تک رسائی سے انکار کردیا۔دریں اثناءایک اورکیس میں بریلی میں فاطمہ نامی خاتون نے بتایاکہ ان کے شوہر آشیش گنگوار نے نکاح کے ذریعے شادی کرنے سے پہلے خود کو انسٹاگرام پر رحمن کے طور پر متعارف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ اسے اس کی اصل شناخت کئی مہینوں بعد اپنے سسر کی موت کے موقع پر پتہ چلی۔

انہوں نے کہا کہ جب مجھے حقیقت کا علم ہوا تو میں حیران وپریشان ہو گئی۔ فاطمہ نے بتایاکہ اس کا شوہر حال ہی میں انکے چار ماہ کے بیٹے کے ساتھ بھاگ گیا ۔انہوں نے کہاکہ وہ میرے بچے کو لے کر بھاگ گیا، مجھے نہیں معلوم کہ میرا بچہ کہاں ہے۔ فاطمہ نے بتایا کہ اس نے اسے بچے کو بیچنے کی دھمکی دی تھی۔ خاتون نے نواب گنج پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے بتایاکہ معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔