گولان میں بستیوں کی توسیع بند کی جائے، اقوام متحدہ کا اسرائیل کو دوٹوک پیغام

بدھ 29 اپریل 2026 23:00

نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 اپریل2026ء) اقوامِ متحدہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں میں غیرقانونی بستیوں کی توسیع کے منصوبے فوری طور پر روک دے۔ دوسری جانب شام نے اسرائیل سے 1974 کی سرحدوں تک واپسی کے لیے نئے سکیورٹی معاہدے کی خواہش ظاہر کی ہے، جس سے خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہونے کے امکانات ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں میں اپنی بستیوں کی توسیع کے منصوبوں کو فوری طور پر روک دے۔ عالمی ادارے کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ گولان میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے منصوبے بند ہونے چاہییں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق 16 اپریل کو اسرائیل نے پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دی، جس کے تحت 33 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی لاگت سے مقبوضہ گولان میں غیرقانونی بستیوں کو فروغ دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

2026 سے 2030 تک جاری رہنے والے اس منصوبے کے تحت تقریباً ایک ارب شیکل مختص کیے گئے ہیں، جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور اس علاقے میں اسرائیلی آبادی میں اضافہ کرنا ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق اس اقدام کے ذریعے ’کاتزرین‘ نامی بستی کو گولان کا پہلا شہر بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جیسا کہ کابینہ کے وزیر زیف ایلکن نے بتایا۔بین الاقوامی قانون کے تحت گولان کی پہاڑیاں شام کا علاقہ تسلیم کی جاتی ہیں، جن پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے، اور وہاں بستیوں کی تعمیر و توسیع کو غیرقانونی قرار دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب شامی صدر احمد الشراع نے کہا ہے کہ دمشق ایک نئے سیکیورٹی معاہدے کا خواہاں ہے، جس کے تحت اسرائیل 1974 کی جنگ بندی لائنوں تک واپس جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام مرحلہ وار مذاکرات کا حصہ ہو سکتا ہے، جو مستقبل میں وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کرے گا۔